سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 408
365 اس مہینے اس علاقہ اور اس دن کی ہتک کرنا۔یہ حکم آج کے لئے نہیں کل کے لئے نہیں بلکہ اس دن تک کے لئے ہے کہ تم خدا سے جا ملو پھر فرمایا یہ باتیں جو میں تم سے آج کہتا ہوں ان کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دو کیونکہ ممکن ہے کہ جو لوگ آج مجھ سے سن رہے ہیں ان کی نسبت وہ لوگ ان پر زیادہ عمل کریں وہ جو مجھ سے نہیں سن رہے۔یہ حدیث بیان فرما کر آپ نے عورتوں سے کہا کہ میں آنحضرت صلی اللہ یہ لب ہلم کی یہ حدیث تمہیں سنا کر اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوتا ہوں اور تم میں سے ہر عورت جو میرا درس سن رہی ہے وہ کم از کم ایک ایسی عورت کو جس نے آج درس نہیں سنا اس کے گھر جا کر یہ حدیث سنائے اور اس پر عمل کرنے کی تاکید کرے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے عورتوں میں بڑا جوش پیدا ہوا اور قادیان میں گھر گھر عورتیں پھر کر جو عورتیں درس میں نہیں آسکی تھیں ان کو یہ حدیث سناتی پھرتی تھیں اور ہر عورت کوشش کرتی تھی کہ اس ثواب سے محروم نہ رہ جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت اماں جان ) سے بے حد محبت تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذکر پر بھی اکثر آنکھیں بھیگ جاتی تھیں۔آپ کی یاد میں آپ کے مندرجہ ذیل اشعار آپ کے دل کی ترجمانی کرتے ہیں:۔اے مسیحا تیرے سودائی جو ہیں ہوش میں بتلا کہ ان کو لائے کون ہے تو تو واں جنت میں خوش اور شاد ان غریبوں کی خبر کو آئے کون اے مسیحا ہم سے گو تو چھٹ گیا دل سے جانتا ہوں اس پر الفت تری چھڑوائے کون صبر کرنا ہے ثواب! کو بہلائے کون دل ناداں کو آپ خود حسن و احسان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نظیر تھے اور اپنی ساری زندگی آپ نے اس مشن کو پورا کرنے میں خرچ کی جس کی داغ بیل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ڈالی تھی۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کارنامے“ کے موضوع پر ۱۹۲۷ء میں ایک تقریر فرمائی تھی جس میں آپ کے کارناموں کا تذکرہ کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:۔