سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 406 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 406

363 کھانے کا بس ایک دھن تھی کہ کام ختم ہو جائے۔رات کو عشاء کی نماز کے بعد لکھنے بیٹھے ہیں تو کئی دفعہ ایسا ہوا کہ صبح کی اذان ہوگئی اور لکھتے چلے گئے۔تفسیر صغیر تو لکھی ہی آپ نے بیماری کے پہلے حملے کے بعد یعنی ۱۹۵۶ء میں۔طبیعت کافی کمزور ہو چکی تھی گو یورپ سے واپسی کے بعد صحت ایک حد تک بحال ہو چکی تھی مگر پھر بھی کمزوری باقی تھی ڈاکٹر کہتے تھے آرام کریں، فکر نہ کریں زیادہ محنت نہ کریں لیکن آپ کو ایک دُھن تھی کہ قرآن کے ترجمہ کا کام ختم ہو جائے۔بعض دن صبح سے شام ہو جاتی اور لکھواتے رہتے۔کبھی مجھ سے املاء کرواتے۔مجھے گھر کا کام ہوتا تو مولوی یعقوب صاحب مرحوم کو تر جمہ لکھواتے رہے۔آخری سورتیں لکھوا رہے تھے غالباً انتیسواں سیپارہ تھا یا آخری شروع ہو چکا تھا ( ہم لوگ نخلہ میں تھے وہیں تفسیر مکمل ہوئی تھی) کہ مجھے بہت تیز بخار ہو گیا میرا دل چاہتا تھا کہ متواتر کئی دنوں سے مجھے ہی ترجمہ لکھوا رہے ہیں میرے ہاتھوں ہی یہ مقدس کام ختم ہو۔میں بخار سے مجبور تھی ان سے کہا کہ میں نے دوائی کھالی ہے آج یا کل بخار اتر جائے گا دو دن آپ بھی آرام کر لیں۔آخری حصہ مجھ سے ہی لکھوائیں تا میں ثواب حاصل کر سکوں۔نہیں مانے کہ میری زندگی کا کیا اعتبار۔تمہارے بخار اترنے کے انتظار میں اگر مجھے موت آ جائے تو ؟ سارا دن ترجمہ اور نوٹس لکھواتے رہے اور شام کے قریب تفسیر صغیر کا کام ختم ہو گیا۔بے شک تفسیر کبیر مکمل قرآن مجید کی نہیں لکھی گئی مگر جو علوم کا خزانہ ان جلدوں میں آ۔چھوڑ گئے ہیں وہ اتنا زیادہ ہے کہ ہماری جماعت کے احباب ان کو پڑھیں ان سے فائدہ اُٹھا کے بڑے سے بڑا عالم ان کے مقابلہ میں نہ ٹھہر سکے۔۔۔قرآن مجید کی تلاوت کا کوئی وقت مقرر نہ تھا جب بھی وقت ملا تلاوت کر لی یہ نہیں کہ دن میں صرف ایک بار یا دو بار۔عموماً یہ ہوتا تھا کہ صبح اٹھ کر ناشتہ سے فارغ ہو کر ملاقاتوں کی اطلاع ہوئی آپ انتظار میں ٹہل رہے ہیں قرآن مجید ہاتھ میں ہے لوگ ملنے آگئے قرآن مجید رکھ دیا مل کر چلے گئے پڑھنا شروع کر دیا۔تین تین چار چار دنوں میں عموماً میں نے ختم کرتے دیکھا ہے۔ہاں جب کام زیادہ ہوتا تھا تو زیادہ دن میں بھی لیکن ایسا بھی ہوتا تھا کہ صبح سے قرآن مجید ہاتھ میں ہے ٹہل رہے ہیں اور ایک ورق بھی نہیں الٹا دوسرے دن دیکھا تو پھر وہی صفحہ۔میں نے کہنا کہ آپ کے ہاتھ میں قرآن مجید ہے لیکن آپ پڑھ نہیں رہے تو فرماتے۔ایک آیت پر اٹک گیا ہوں جب تک اس کے مطالب حل نہیں ہوتے آگے کس طرح چلوں“ ایک دفعہ یونہی خدا جانے مجھے کیا خیال آیا میں نے پوچھا کہ آپ نے کبھی موٹر بھی چلانی