سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 105
105 ۳۰۷ سوسائٹی اور جاہلانہ مصروفیتوں کے عاجز نہ تو کوئی دینی خدمت ہی کر سکا اور نہ کبھی ایسا خیال پیدا ہوا۔گذشتہ سال یعنی جولائی ۱۹۲۶ء میں ایک قتل اور ایک کو مضروب کرنے کے جرم میں احقر مع دیگر چار اشخاص کے تعزیرات ہند کے رو سے عدالت میں چالان کیا گیا۔جہاں سے بعد تحقیقات ۱۵۔جنوری ۱۹۲۷ء کو سیشن جج گوجرانوالہ نے میرے تین ساتھی ملزمان کو رہا کر دیا اور عاجز اور میرے چچا زاد بھائی حیدر کو دفعہ ۳۰۲ کے ماتحت پھانسی اور دفعہ ۳۰۷ کے ماتحت حبس دوام بعبور دریائے شور کی سزائیں دیں۔بندہ نے اسی وقت درد دل سے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی کہ خداوند اب ایسے اسباب پیدا کر کہ میری اپیل ہائی کورٹ میں دائر ہو جائے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے میری دعا کو فوراً قبول کیا اور چوہدری محمد شریف صاحب سیکرٹری احمد یہ جماعت فیروز والہ اور دواور دوست مسمیان نذرمحمد و مراد علی میری امداد کے لئے کھڑے ہو گئے۔چنانچہ ان مہربانوں نے چوہدری ظفر اللہ خانصاحب و مسٹر ایم سلیم بیرسٹر ان کو وکلاء پیرو کا رمقرر کیا۔چوہدری ظفر اللہ خانصاحب بیرسٹر نے مقدمہ لیتے ہی حضرت خلیفہ ثانی کے حضور دعا کے لئے لکھا۔عاجز نے بھی متعدد بار حضرت صاحب کے حضور دعاؤں کے لئے عرضداشتیں روانہ کیس اور اللہ تعالیٰ سے خود بھی دعائیں کیں اور دوبارہ بیعت بذریعہ خط پھانسی کی کوٹھڑی جیل گوجر انوالہ سے کی۔اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور حضرت خلیفہ ثانی کی دعاؤں اور چوہدری ظفر اللہ خانصاحب بیرسٹر پیروکار کی دعاؤں اور تیاری اپیل کی وجہ سے احقر مع اپنے چچازاد بھائی حیدر ۹ مئی ۱۹۲۷ء کو مسٹر جسٹس براڈوے اور مسٹر جسٹس سکمپ ججان ہائی کورٹ پنجاب سے بری کر دیا گیا اور ہم دونوں ۱۲ مئی بروز جمعرات بوقت ۳ بجے دو پہر وارنٹ رہائی عدالت عالیہ سے آنے پر رہا ہو گئے۔ہم ہر دو بھائیوں کی رہائی جو حضرت خلیفہ ثانی کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔ہمارے لئے سلسلہ احمدیہ کی صداقت کا معجزہ ہے۔میں اپنے احمدی بھائیوں سے بذریعہ الفضل دعا کا خواہاں ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے دین کا سچا خادم بنائے۔۔۔۔۔۔66 الفضل ۲۰ مئی ۱۹۲۷ء صفحه ۱۰)