سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 106
106 وو ایک قریب المرگ مایوس العلاج مریض دعا کی برکت سے کس طرح شفایاب ہو گیا اللہ تعالیٰ کے اس غیر معمولی فضل اور احسان کا ذکر کرتے ہوئے سید اختر احمد احمدی بی۔اے لکھتے ہیں :- پار سال انہی دنوں میں میں نے ارادہ کیا کہ آئندہ بی۔اے کے امتحان میں شریک نہ ہوں کیونکہ نومبر میں میرے منہ سے خون آیا اور بلغم کے معائنہ سے یہ ظاہر ہوا کہ سل کے جراثیم موجود ہیں۔میں نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں دعا کے لئے لکھا اور امتحان میں بیٹھنے کے متعلق حضور سے دریافت کیا۔میری عام صحت اچھی تھی۔بعض ڈاکٹر امتحان میں شریک ہونے کی اجازت دے رہے تھے لیکن میرا دل بیٹھا ہوا تھا۔حضور نے مجھے امتحان میں بیٹھنے کا مشورہ دیا اور تھکا دینے والی محنت سے بچنے کا ارشاد فرمایا۔حضور کے ارشاد سے میرے دل میں پھر زندگی پیدا ہوگئی اور میں نے امتحان کے لئے معمولی تیاری شروع کر دی۔میں ماہ مئی وجون میں شریک امتحان ہوا۔امتحان کا آخری پر چہ آنرز کا تھا اس سے دور دوز قبل میرے منہ سے بہت سا خون آیا۔میں نے حضرت خلیفہ امسیح کو فوراً تار دیا اور آخری پر چہ انگریزی مضمون نویسی کا اس حال میں دیا کہ برف کھا تارہا اور نارنگی کا عرق پیتا رہا تا خون بندر ہے لیکن بعد ازاں میں اس شدت سے بیمار پڑا کہ زندگی کے لالے پڑ گئے۔سارے انجکشن نا کامیاب رہے ، خون لگا تار آ رہا تھا، صرف دعا کا آسرا باقی تھا، ہر روز حضرت اقدس کی خدمت میں خط یا تا ر بھجواتا۔ڈاکٹر مایوس ہو چکے تھے اور میں قریب المرگ تھا آخر خدا تعالیٰ نے حضور کی دعاؤں کو سنا اور مجھے اچھا کر دیا میں ان دنوں انکی سینا ٹوریم میں ہوں۔صبح و شام چار فرلانگ ٹہلتا ہوں وزن پہلے سے کچھ زیادہ ہے۔جراثیم کم ہوتے جارہے ہیں۔امتحان کا نتیجہ نکلا اور میں جس نے مہینوں علالت کے سبب کتاب نہ دیکھی تھی انگلش آنرز میں اپنے کالج میں فرسٹ آیا اور ساری یونیورسٹی میں آنرز میں سوم۔تحدیث نعمت کے طور پر احباب کو خبر سناتا ہوں کہ مجھے پٹنہ کالج کی طرف سے اول ہونے کے انعام میں سو روپے کی کتابیں ملیں۔نیز پٹنہ یونیورسٹی کے کانووکیشن میں یہ اعلان ہوا کہ میں یونیورسٹی بھر میں اردو میں فرسٹ ہوں اور اس