سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 87 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 87

درخواستیں فوراً آنی شروع ہو جانی چاہئیں مگر یہ شرط ہو گی کہ آبادی کی شرائط کی پابندی کا وعدہ کریں۔۲۔چھ ماہ کے اندر مکان بنانا شروع کر دیں اور مکان شروع ہونے سے تین ماہ کے اندر مکان مکمل کر لیں۔۳۔نقشہ مقررہ کی پیروی کریں۔۴۔کوئی دکان کی عمارت پر ائیو یٹ نہ ہوگی دکان کی عمارتیں کلی طور پر سلسلہ کی ملکیت ہونگی اور کرایہ پر دی جائیں گی۔کسی کو گھر پر تجارت کرنے یا مکان کے کسی حصہ کو دکان کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہ ہو گی۔ب:۔اس کے علاوہ جو لوگ زمین خریدنا چاہئیں ان کو ایک ماہ تک پچاس روپے کنال کے حساب سے زمین ملے گی مگر شرط یہ ہوگی کہ زمین کا قبضہ مکان بناتے ہوئے ملے گا کوئی ٹکڑا معین پہلے۔کیا جائے گا۔اس سے آبادی مسلسل نہیں رہتی جو پہلے مکان بنائے گا اسے پہلے زمین مل جائے گی اور بعد میں مکان بنانے والے کو اس جگہ زمین ملے گی جہاں زمین خالی ہوگی۔(ج):۔ایک ماہ کے اندر جن کی قیمت وصول نہ ہوگی ان کیلئے دوسری قیمت کا اعلان کیا جائے گا۔نوٹ۔۔۔زمین کی قیمت ۲/۳ صد را انجمن احمدیہ ادا کرے اور ۱/۳ تحریک۔اس نسبت سے علاقہ کی دونوں انجمنیں مالک ہوں گی۔" ( تاریخ احمدیت جلد نمبر ۱۲ صفحه ۴۱ تا ۴۱۳) ربوہ کی زمین کی تقسیم و فروخت کے متعلق بھی حضور نے مفصل ہدایات جاری فرمائیں اور اپنی غیر معمولی فراست اور تجربہ کی روشنی میں یہ پیش خبری بھی بیان فرمائی که احمدیت نے بہر حال بڑھتا ہے۔یہاں کی زمینوں کا بھی وہی حال ہو گا جو قادیان کی زمینوں کا ہوا۔یہ جگہ پاکستان کا مرکز رہے گی اور قریب کے مرکزوں سے زیادہ تعلق ہوتا ہے۔پس جو شخص زمین لینا چاہئے انہیں جلدی کرنی چاہئے۔" (الفضل ۲۸ ستمبر ۱۹۴۸ء) قادیان سے جدائی اور حالات کی تبدیلی سے لاچار افراد جماعت نے ربوہ کی زمین خرید نے کی تحریک پر بھی والہانہ انداز میں لبیک کہا اور منتظمین بلکہ خود حضور کے اندازے سے بھی کہیں جلدی زمین مقررہ قیمت پر فروخت ہو گئی۔اخبار الفضل کی رپورٹ کے مطابق زمین کی فروخت کے عام اعلان سے قبل ہی ۳۰۰ کنال زمین فروخت ہو چکی تھی۔خطبہ جمعہ میں حضور کے اس اعلان کے بعد کہ ۱۵۔اکتوبر ۱۹۴۸ء تک پانچ سو کنال زمین ایک سو روپے کنال کے حساب سے فروخت کی