سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 88
AA جائے گی مقررہ تاریخ سے پہلے ایک ہزار کنال کی قیمت داخل خزانہ ہو چکی تھی اس کے بعد اعلان کیا گیا کہ دگنی قیمت پر تین سو کنال اور فروخت کی جائے گی مگر دو ہفتے سے بھی کم عرصے میں یہ گنجائش بھی ختم ہو گئی۔(الفضل ۳۱۔اکتوبر ۱۹۴۸ء) جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے حضور ان دنوں ہنگامی بنیادوں پر دن رات تعمیر مرکز کی عبوری مرکز مہم میں مصروف تھے تا ہم اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ باقی معمول کے کام نظر انداز ہو رہے تھے۔حضور کی دور رس نگاہ سے کوئی پہلو پوشیدہ نہ تھا اور ایسے وقت میں جب کہ مہاجرین کی اکثریت پریشان حالی میں دو وقت کی روٹی اور تن پوشی کے کپڑوں کی فکر میں ہی غلطاں و پیچاں تھی حضور جماعت کی تمام وقتی ضروریات کے ساتھ ساتھ تعلیم و تربیت اور بہتر مستقبل کیلئے بھی برا بر کوشاں تھے۔لاہور میں بالکل ابتدائی دنوں میں انتہائی بے سرو سامانی کے عالم میں حضور نے جامعہ احمدیہ اور تعلیم الاسلام کالج جاری فرما دیا۔حالت یہ تھی کہ طالب علموں کے بیٹھنے کیلئے ہی نہیں اساتذہ کے بیٹھنے کیلئے بھی کرسیاں تو دور کی بات ہے چٹائیاں تک میسر نہ تھیں۔اس کے باوجود یہ بنیادی کام بغیر کسی توقف کے جاری ہو گئے۔آہستہ آہستہ چٹائیاں اور کسی قدر چارپائیاں میسر آئیں تو رات کو ان پر سونے اور دن کو ان پر بیٹھ کر پڑھنے پڑھانے کا کام ہونے لگا۔اساتذہ اور طالبعلموں نے کمال خلوص و بے نفسی سے شہد کی مکھیوں کی طرح نیا پچھتہ اور نیا شہد بنانے کا عمل جاری کر دیا۔حضور کے ارشاد کے مطابق جامعہ احمدیہ اور تعلیم الاسلام ہائی سکول لاہور سے ربوہ منتقل ہوئے اور جیسے جیسے ربوہ میں کچے مکان بننے لگے یہ ادارے ربوہ میں آتے گئے۔جماعت کے بہتر مستقبل کیلئے علمی ترقی حضور کی ترجیحات میں اول نمبر پر تھی۔یہی وجہ ہے کہ آپ کے تاکیدی احکامات کی روشنی میں جماعتی خزانے اور اموال سے بھی پہلے لاہور سے لائبریری کی کتب چنیوٹ منتقل کی گئیں۔(جون ۱۹۴۸ء) اور اس کے بعد اگست ۴۸ء میں خزانہ لاہور سے چنیوٹ منتقل کیا گیا اور باقی دفاتر بعد میں ربوہ پہنچے۔قادیان سے ہجرت کے وقت بھی حضور کی ذاتی توجہ سے علماء کرام، مبلغین لائبریریوں کی کتب کو باقی افراد اور سامان سے پہلے لاہور منتقل کیا گیا۔ربوہ کی تعمیر و آبادی کے سلسلہ میں ہمارے مخالفوں کی بعض مشکلات اور ان کا ازالہ طرف سے جو مخالفت ہوئی اس کا کسی قدر ذکر ہو چکا ہے۔حکومت کے بعض افسروں کی طرف سے بھی مختلف رکاوٹیں پیدا ہوتی رہیں۔مثلاً زمین کی فروخت