سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 530
۵۳۰ بھڑک اٹھے۔پس یک لخت سلطنت اور حکومت تو کبھی نہیں ملتی۔یہی حال جماعت احمدیہ کا سمجھنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کو اللہ تعالٰی حکومت دے گا مگر اپنے وقت پر چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام ہے (دیہ آمدہ زراو دور آمدہ) یہ الہام ہے تو ایک شخص کے متعلق مگر اس میں جو حقیقت بیان کی گئی ہے وہ یہی ہے کہ جو چیز دیر سے ملتی ہے۔وہ دیر پا بھی ہوتی ہے زراہ دور آمدہ کا منشا یہی ہے کہ خدا نے اس کو بہت دور سے بھیجا ہے اور وہ بہت دیر پا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ رسول کریم میں ایل او لیول کا جو یہ دوسرا ظہور ہوا ہے۔اس میں جب احمدیہ جماعت کو حکومت ملی تو اس کا بڑا لمبا دور ہو گا کہ اس سے بڑھ کر لمبا دور اور کسی حکومت کا نہ ہو گا۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمارے دشمنوں کو اس بات کی سمجھ عطا فرمائے کہ خدا کے شیروں کے مقابل کھڑا ہونا کوئی اچھی بات نہیں ہے۔" (الفضل ۲۷۔جون ۱۹۳۱ء) مذکورہ بالا لائحہ عمل جلسہ سالانہ میں جماعت کے سامنے پیش کیا گیا۔حضور کی نظر ثانی کے بعد الفضل میں شائع ہوا اور اس کے بعد مزید غور و فکر کرنے اور معین رنگ دینے کے لئے کے ۱۹۵ ء کی مجلس شوری میں پیش کیا گیا۔مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس مضمون کا خاتمہ پیارے رہنما حضرت فضل عمر کی مندرجہ ذیل دلی خواہش اور دعا پر کیا جائے۔ایجنڈا ختم ہو گیا ہے اس لئے اب دعا کے ساتھ میں دوستوں کو رخصت کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔اور آپ کو دعائیں کرنے اور قرآن کریم اور اسلام پر عمل کرنے کی توفیق بخشے اور خلافت احمدیہ کے قائم رکھنے کا جو عہد آپ نے کیا ہے اس کے پورا کرنے کی آپ کو اور آپ کی اولاد کو ہمیشہ توفیق ملتی رہے اور قیامت تک اس کے ذریعہ اسلام دنیا کے کناروں تک پھیلتا رہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہمیں جو کچھ ملتا ہے ظلی طور پر ملتا ہے اصل میں یہ سب کچھ محمد رسول اللہ یتیم کا مال ہے انہی کے مال کی حفاظت کیلئے ہم لڑ رہے ہیں ورنہ ہمیں اپنی کسی عزت کی ضرورت نہیں اگر محمد رسول اللہ ملی و ویلی کی فتح ہو جائے تو ہمیں دنیا کے تمام دکھ اٹھانے منظور ہیں۔خواہش ہے تو صرف اتنی کہ محمد رسول اللہ صلی وی کی عزت دنیا میں قائم ہو"۔(رپورٹ مشاورت ۱۹۵۷ء صفحہ ۱۲۱٬۱۲۰)