سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 529
۵۲۹ اور اس عہد کے متعلق آپ نے یہ ارشاد بھی فرمایا کہ ید عمد۔۔۔متواتر چار صدیوں بلکہ چار ہزار سال تک جماعت کے نوجوانوں سے لیتے چلے جائیں۔اور جب تمہاری نئی نسل تیار ہو جائے تو ہم اسے کہیں کہ وہ اس عہد کو اپنے سامنے رکھے اور ہمیشہ اسے دہراتی چلی جائے۔اور پھر وہ نسل یہ عہد اپنی تیسری نسل کے سپرد کر دے اور اس طرح ہر نسل اپنی اگلی نسل کو اس کی تاکید کرتی چلے جائے۔اسی طرح بیرونی جماعتوں میں جو جلسے ہوا کریں ان میں بھی مقامی جماعتیں خواہ خدام کی ہوں یا انصار کی یہی عہد دہرایا کریں۔یہاں تک کہ دنیا میں احمدیت کا غلبہ ہو جائے۔اور اسلام اتنا ترقی کرے کہ دنیا کے چپہ چپہ پر پھیل جائے۔" الفضل ۲۸ اکتوبر ۱۹۵۹ء صفحه (۴) حضرت مصلح موعود کا انتہائی دور اندیشی اور تدبر کا مظہر یہ کارنامہ جماعت اور اسلام کی سر بلندی کے لئے ایک ایسی ناقابل فراموش اور بے مثال خدمت ہے جو ہمیشہ یاد گار رہے گی۔اس اقدام سے نہ صرف تمام امکانی رخنوں اور اختلاف و انشقاق کے تمام رستوں اور ذرائع کو بند کر دیا گیا بلکہ اتفاق و اتحاد اور نظم و ضبط کی ایک مضبوط و مستحکم بنیاد مہیا ہو گئی اور خدا تعالیٰ کے فضل سے بعد میں ہونے والے انتخاب خلافت اس امر کا ثبوت بن گئے کہ حضرت مصلح موعود کی قیادت و نگرانی میں جماعت بنیان مرصوص بن گئی اور ہمیشہ کے لئے ایمان و عمل صالح کے اس بلند مقام پر فائز ہو گئی جہاں عظیم خدائی انعام ” خلافت " حاصل ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے ملنے والے اس انعام کے ایک ضمنی فائدہ یا نتیجہ کا ذکر کرتے ہوئے حضور جماعت کو یہ خوشخبری دیتے ہیں کہ :۔وو۔۔۔دنیا میں کون سا ایسا نبی آیا ہے۔جسے پہلے ہی دن حکومت مل گئی ہو۔رسول کریم میں یا تو یہ تیرہ برس مکہ میں رہے۔مگر کون کہہ سکتا تھا کہ وہی شخص جو مکہ کی گلیوں میں کسمپرسی کی حالت میں پھرا کرتا تھا۔ایک دن دنیا کا بادشاہ بن جائے گا۔حضرت مسیح ناصری کی امت واقعہ صلیب کے بعد سینکڑوں سال تک تکلیفیں اٹھاتی رہی۔پھر خدا نے انہیں جب حکومت دی تو اتنی لمبی حکومت دی کہ اب تک قائم ہے۔ایک وقت تھا که اسلامی حکومت نے عیسائی سلطنت کو تباہ کر دیا تھا۔مگر پھر بھی آگ کی چنگاری کی طرح عیسائی حکومت دبی رہی۔اسلامی حکومتوں کے زمانہ میں تو وہ دبے رہے مگر پھر