سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 531 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 531

۵۳۱ نفسی نقطہ آسمان کی طرف اٹھایا جانا پر اپنے نام ۱۹۱۴ء سے شروع ہونے والا مبارک دور خدا تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ کامیابی و کامرانی کی عظیم منزلیں طے کرتے ہوئے برابر آگے بڑھتا گیا۔نصف صدی کی اس خوشگوار اور ایمان افروز داستان میں بعض نہایت مشکل اور کڑے وقت بھی آئے۔خلافت ثانیہ کے بابرکت دور کے آغاز ہی میں قادیان سے تعلق منقطع کرنے والوں نے قادیان کی بعض عمارتوں کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ ہم نے یہ عمارتیں خدمت اسلام کیلئے بنائی تھیں مگر جلد ہی ان پر عیسائیوں کا قبضہ ہو جائے گا۔ایک اور طرف سے یہ آواز گونجتی ہوئی سنائی دی کہ جماعت کی اکثریت تو ہمارے ساتھ ہے۔اقلیت جلد ہی ختم ہو جائے گی۔اس سے بھی بڑھ کر ایک بھاری بھر کم آواز یہ کہتے ہوئے سنی گئی کہ مینارہ المسیح کی اینٹیں دریائے بیاس میں بہادی جائیں گی اور قادیان سے احمدیت کا نام و نشان تک مٹادیا جائے گا۔بعض لوگوں نے اپنی اس خوش فہمی کی بناء پر ا کے ساتھ فاتح قادیاں " لکھنا شروع کر دیا۔ان شدید ترین مخالفتوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کے فضل سے احیاء دین اور قیام شریعت کی خوشنما کو نپل آہستہ آہستہ زمین میں مستحکم ہوتی گئی۔اس کی جڑیں مضبوط اور اس کا تنا اور پھل پھول بڑھتے اور پھیلتے چلے گئے افریقہ کے متعدد ممالک امریکہ کی متعدد ریاستیں یورپ کے متمدن و مہذب ممالک ایشیاء اور آسٹریلیا کے مختلف مقامات احمدیہ خدمات سے استفادہ کرنے لگے۔بیرونی ممالک میں تحریک جدید پھلنے پھولنے لگی۔اندرون ملک اصلاح و ارشاد اور وقف جدید کا اصلاحی جال طائران قدس کو اپنی طرف مائل کرنے لگا۔مخالفوں کی مخالفتیں هَبَاءً ا مَنْشُورًا ہوتی چلی گئیں اور احمدیت اپنے نیک اثرات دنیا بھر میں پھیلانے لگی۔حضرت فضل عمر کا قائم شدہ نظام جس کی آپ نے لمبا عرصہ خود نگرانی اور حفاظت فرمائی قدرتی اور طبعی طریق سے ہمہ جہتی ترقی کرنے لگا اور احمدیت کا ہر آنے والا دن پہلے دن سے بہتر حالت پر ہی طلوع ہوا۔حضرت فضل عمر طبعی و بشری تقاضوں کے مطابق عمر کے آخری حصہ میں بیمار ہو گئے۔آپ سے والہانہ محبت و عقیدت کی وجہ سے جماعت کے ہر فرد کو یہ بیماری بہت دکھ دینے