سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 445 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 445

۴۴۵ دانا پھر کیسا دردمند ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی تکلیف پر آہیں بھرنے لگ جاتا اور دکھ اور تکلیف محسوس کرنے لگ جاتا ہے اور ہمارا بھی کیسا عاشق ہے۔یہ کیسے پیارے الفاظ ہیں۔جن میں خدا تعالیٰ ابراہیم کو یاد کرتا ہے۔و تمثیل کی زبان سے اس واقعہ کو بیان کریں تو ہمیں یوں معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ایک محبت کرنے والی ماں ہے اور ابراہیم ایک کمزور دل بچہ ہے۔جس نے ایک درد ناک واقعہ دیکھا اور بلک بلک کر اپنی ماں کو چمٹ گیا۔ماں اس کو ممنون کرنا چاہتی تھی مگر حالات سے مجبور تھی۔وہ واقعات کو تبدیل نہیں کر سکتی تھی مگر وہ اس کے دکھ کو بھی برادشت نہیں کر سکتی تھی۔اس موقع پر اس نے وہی کیا جو وہ کر سکتی تھی۔یعنی اس نے اس کو اپنے گلے سے لگالیا اور پیار کرتے ہوئے بولی کہ ہائے میرا بچہ۔ہائے میرا بچہ یہ کتنا نازک دل والا اور کتنا رحم والا ہے۔لفظ مختصر ہیں مگر جذبات کا ایک وسیع سمند ر پیچھے لہریں مار رہا ہے۔اللہ تعالیٰ انسانی جذبات سے بالا ہے اور ہم اس کی صفات کی کیفیات کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتے مگر اس موقعہ پر جب خدا نے ابراہیم کے لئے حَلِيمُ اوَّاهُ کے الفاظ استعمال کئے تو اس وقت اس کی صفت شفقت اور صفت رافت جس جوش میں ظاہر ہو رہی ہو گی وہ ایسی کیف انگیز ہے کہ ہم گو الفاظ میں اس کو بیان نہ کر سکیں لیکن ہمارے دل اس کی لذت سے آشنا ہیں اور ہمارے قلوب اس سے مزہ لے رہے ہیں اور ہم پر ظاہر کرتے ہیں کہ وہ جو خدا کے لئے تکلیف اٹھاتا ہے خدا تعالٰی بھی اس کے لئے ایک ایسی صفت کا اظہار فرماتا ہے کہ گو الفاظ میں یہ کہنا بے ادبی ہو مگر وہ کچھ ایسی ہی چیز ہوتی ہے کہ جس طرح ماں کا دل اپنے بچہ کی تکلیف کو دیکھ کر خون ہو جاتا ہے۔گویا خداتعالی کا دل بھی ابراہیم کی تکلیف کو دیکھ کر درد سے بھر گیا۔"یہ تمثیلی زبان ہوگی اور حقیقت سے کوسوں دور لیکن ہمارے پاس اور کوئی الفاظ بھی تو نہیں کہ جن سے اس حقیقت کا کوئی قریب تر نقشہ کھینچ سکیں۔یہ تمثیل خواہ کوسوں دور ہو مگر اس حقیقت کے بیان کرنے کے لئے قریب ترین ہے اور شاید انسانی ذہن اللہ تعالیٰ کی ایسی صفات کے سمجھنے کے لئے اس سے زیادہ اور الفاظ کے ذریعہ حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہے۔یہی وجہ ہے کہ بعض مذاہب نے خدا کو باپ کی صورت میں پیش کیا ہے اور بعض مذاہب نے ماں کی صورت میں۔اسلام نے ایسی تمثیلوں سے