سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 444
۴۴۴ تعالی نے کہا کہ نہیں اگر ایک سو نیک بندہ بھی ہوا تب بھی میں اس شہر کو تباہی سے بچالوں گا۔تب ابراہیم نے سوچا کہ شاید سو نیک بندہ بھی اس شہر میں نہیں ہے اور اس نے دعا کی۔اے میرے خدا! اے میرے خدا! جو سو نیک بندوں کے لئے اس شہر کو بچانے کے لئے آمادہ ہے اگر صرف دس اس میں سے کم ہوں اور نوے نیک بندے اس جگہ پر موجو د ہوں تو کیا تیری سی رحیم ہستی صرف دس آدمیوں کی کمی کی وجہ سے اس شہر کو تباہ ہونے دے گی۔تب خدا تعالیٰ نے کہا۔اے ابراہیم اگر نوے نیک بندے بھی اس شہر میں موجود ہوئے تو میں تیری خاطر اس کو تباہی سے بچالوں گا۔تب ابراہیم نئے جوش سے دعا کے لئے کھڑا ہوا اور اس نے خدا تعالیٰ سے عرض کیا۔کہ اے میرے رحیم خدا! جو نوے نیک بندوں کی خاطر اس علاقے کو بچانے کے لئے تیار ہے اگر صرف دس نیک بندے اس میں سے کم ہوں اور صرف اسی نیک بندے اس میں پائے جائیں۔اے میرے رب کیا تو ان اسی کی خاطر اس شہر کو نہیں بچائے گا۔تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔اے ابراہیم میں ان اسی کی خاطر بھی اس شہر کو بچاؤں گا۔اور ابراہیم کی امید اور بھی کم ہو گئی اور وہ سمجھ گیا کہ اس شہر میں اس نیک بندے بھی موجود نہیں ہیں مگر اس نے دعانہ چھوڑی اور دس دس کے فرق کے ساتھ وہ خدا کی رحمت کو جوش میں لاتا گیا یہاں تک کہ آخری دعا اس کی یہ تھی کہ اے میرے خدا! اے میرے خدا! دس نیک بندے بھی تو بڑی چیز ہیں اگر دس نیک بندے اس شہر میں پائے جاتے ہوں تو اے میرے رب تو اس شہر کو ہلاک ہونے دے گا۔اللہ تعالیٰ نے جواب دیا۔ابراہیم ! میں تیرے درد کی خاطر دس نیک بندوں کی موجودگی میں بھی اس شہر کو بچالوں گا لیکن ابراہیم اس میں تو دس نیک بندے بھی موجود نہیں۔تب ابراہیم نے سمجھ لیا کہ لوط اور اس کی اولاد کے سوا اس شہر میں سے کوئی بچائے جانے کے قابل نہیں ہے اور اس نے جان لیا کہ ان کمزور اور گنہ گار بندوں کے بچانے کے لئے جو لوط کی بستیوں میں بستے تھے شفاعت کے تمام سامان ختم ہو گئے اور وہ اس بارے میں بالکل بے بس اور بے طاقت ہے اور وہ درد اور دکھ کے ساتھ اپنی ہی جان کو ہلکان کرتا ہوا خاموشی سے بیٹھ گیا اور اس کے دل کا یہ درد اور اس کے جذبات کی یہ نزاکت اللہ تعالی کو ایسی پسند آئی کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔اِنَّ اِبْرَاهِيمَ لَعَلِيمُ أَوَّاهُ تُنِيْب (صور:۷۶) ابرہیم کو دیکھو کہ یہ ہمارا بندہ کیسا