سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 424
۴۲۴ اور یہ کہتا ہے اللهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ - حَيَّ عَلَى الصَّلوةِ - حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کیا معقول باتیں ہیں۔کیسی سمجھدار آدمیوں کی باتیں ہیں۔بچہ بھی سنے تو وجد کرنے لگ جائے اور ان کے متعلق کوئی بڑا آدمی سوچے تو شرمانے لگ جائے بھلا یہ کیا بات ہوئی کہ نوں نوں ٹوں۔ٹیں ٹیں ٹیں۔مگر افسوس ! کہ اس نوبت خانہ کو آخر مسلمانوں نے خاموش کر دیا۔یہ نوبت خانہ حکومت کی آواز کی جگہ چند مرضیہ خوانوں کی آواز بن کر رہ گیا۔اور اس نوبت کے بجنے پر جو سپاہی جمع ہوا کرتے تھے وہ کروڑوں سے دسیوں پر آگئے اور ان میں سے بھی ننانوے فیصدی صرف رسما اٹھک بیٹھک کر کے چلے جاتے ہیں تب اس نوبت خانہ کی آواز کار عب جاتا رہا۔اسلام کا سایہ گھٹنے لگ گیا خدا کی حکومت پھر آسمان پر چلی گئی اور دنیا پھر شیطان کے قبضہ میں آگئی۔اب خدا کی نوبت جوش میں آئی ہے اور تم کو ہاں تم کو ہاں تم کو خدا تعالیٰ نے پھر اس نوبت خانہ کی ضرب سپرد کی ہے۔اے آسمانی بادشاہت کے موسیقارو! اے آسمانی بادشاہت کے موسیقارو! اے آسمانی بادشاہت کے موسقیارو! ایک دفعہ پھر اس نوبت کو اس زور سے بجاؤ کہ دنیا کے کان پھٹ جائیں۔ایک دفعہ پھر اپنے دل کے خون اس قرنا میں بھر دو۔ایک دفعہ پھر اپنے دل کے خون اس قرنا میں بھر دو کہ عرش کے پائے بھی لرز جائیں اور فرشتے بھی کانپ اٹھیں تاکہ تمہاری درد ناک آواز میں اور تمہارے نعرہ ہائے تکبیر اور نعرہ ہائے شہادت و توحید کی وجہ سے خدا تعالیٰ زمین پر آجائے اور پھر خدا تعالیٰ کی بادشاہت اس زمین پر قائم ہو جائے۔اسی غرض کیلئے میں نے تحریک جدید کو جاری کیا ہے اور اسی غرض کیلئے میں تمہیں وقف کی تعلیم دیتا ہوں۔سیدھے آؤ اور خدا کے سپاہیوں میں داخل ہو جاؤ۔محمد رسول اللہ ملی یوالی کا تخت آج مسیح نے چھینا ہوا ہے تم نے مسیح سے چھین کر پھر وہ تخت محمد رسول اللہ میں ایم کو دینا ہے اور محمد رسول اللہ نے وہ تخنت خدا کے آگے پیش کرنا ہے اور خدا تعالیٰ کی بادشاہت دنیا میں قائم ہونی ہے۔پس میری سنو اور میری بات کے پیچھے چلو کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ خدا کہہ رہا ہے میری آواز نہیں ہے۔میں خدا کی آواز تم کو پہنچا رہا ہوں۔تم میری مانو۔خدا تمہارے ساتھ ہو۔خدا تمہارے ساتھ ہو۔خدا تمہارے ساتھ ہو اور تم دنیا میں بھی عزت پاؤ اور