سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 425
۴۲۵ آخرت میں بھی عزت پاؤ۔" (سیر روحانی جلد سوم صفحه ۲۸۷٬۲۸۵) حضور کی تحریروں کے جستہ جستہ چند اقتباس تبر کا پیش خدمت ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض و برکات بیان کرتے ہوئے آپ نے جو نقشہ کھینچا ہے اس سے "کوثر " کی ایک دلکش تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے۔آپ فرماتے ہیں:۔عالم روحانی کے سب سے بڑے سمند ر تو محمد رسول اللہ میں لا رہی ہیں مگر ان سے آگے کئی قسم کی نہریں جاری ہو ئیں چنانچہ دیکھ لو ایک نہر شریعت کی چلی پھر اسی نہر میں سے ایک حنفی نہر نکلی ، ایک شافعی نہر نکلی ، ایک جنبلی نہر نکلی یہ مختلف قسم کی نہریں ہیں جو شریعت کی نہر سے جاری ہو ئیں۔پھر ایک شیعوں کی نہر جاری ہوئی ایک سنیوں کی نہر جاری ہوئی ایک خارجیوں کی نہر جاری ہوئی اور ان کے ذریعہ سے شریعت کے مختلف پہلو زیر بحث آتے رہے۔پھر ایک تصوف کی نہر چلی ، ایک فلسفہ شریعت کی نہر چلی ، جس کے بہت بڑے بانی ہمارے شاہ ولی اللہ اور امام ابن تیمیہ تھے اور آخر میں سب سے زیادہ اہم کام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا۔پھر سیاست کی ایک نہر چلی جو حضرت ابو بکر حضرت عمررؓ، حضرت عثمان حضرت علی سے شروع ہوئی اور پھر آگے نکلتی چلی گئی اور اس طرح یہ روحانی سلسلہ جو سیاست مذہبی اور فلسفہ مذہبی اور احکام شریعت کی حکمتوں اور ان کی ضرورتوں کے ساتھ تعلق رکھتا تھا دنیا میں وسیع تر ہو تا چلا گیا۔پھر اخلاق فاضلہ کی ایک نہر جاری ہوئی جسے امام غزالی نے اور بھی لمبا کیا اور اس سے زمین کو سیراب کیا اس طرح تصوف میں جنید ، شبلی حضرت معین الدین چشتی ، بہاء الدین نقش بندی شهاب الدین سهروردی وغیرہ جیسے عظیم الشان لوگ گزرے اور پھر یہ ساری نہریں حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں آکر یہ غم ہو گئیں اور پھر ایک نئی نہر دنیا میں چل پڑی اور آپ کے ذریعہ سے پرانی روحانی نہریں بھی جاری رہیں۔پرانے زمانے کے بادشاہوں نے جتنی نہریں بنائی تھیں وہ سب کی سب ختم ہو گئیں لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نہراب تک چل رہی ہے۔(سیر روحانی صفحہ ۷۷) اسی سلسلہ میں حضور می یا ای میل سے گہری محبت و شیفتگی اور دلی لگاؤ اور عقیدت کے بیان میں