سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 372 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 372

۳۷۲ امور سب سے زیادہ میرے مد نظر رہیں گے اور میں خود بھی اپنی ساری توجہ اسی طرف پھیروں گا اور باقی سب کی توجہ بھی اسی طرف پھیرا کروں گا۔اور سلسلہ کے متعلق تمام کاموں میں نفسانیت کا دخل نہیں ہونے دوں گا اور جماعت کے متعلق جو پہلے دو خلفاء کی سنت ہے اس کو ہمیشہ مد نظر رکھوں گا اس کے بعد وہ سب لوگوں سے بیعت لے۔اور میں ساتھ ہی اس شخص کو وصیت کرتا ہوں۔کہ حضرت صاحب کے پرانے دوستوں سے نیک سلوک کرے۔نئیوں سے شفقت کرے امہات المومنین خدا کے حضور میں خاص رتبہ رکھتی ہیں۔پس حضرت ام المومنین کے احساسات کا اگر اس کے فرائض کے رستہ میں روک نہ ہوں احترام کرے۔میری اپنی بیبیوں اور بچوں کے متعلق اس شخص کو یہ وصیت ہے کہ وہ قرض حسنہ کے طور پر ان کے خرچ کا انتظام کرے جو میری نرینہ اولاد انشاء اللہ تعالیٰ ادا کرے گی۔بصورت عدم ادائیگی میری جائیداد اس کی کفیل ہو ان کو خرچ مناسب دیا جائے عورتوں کو اس وقت تک خرچ دیا جائے جب تک وہ اپنی شادی کرلیں بچوں کو اس وقت تک جب کہ وہ اپنے کام کے قابل ہو جائیں۔اور بچوں کو دینی اور دنیاوی تعلیم ایسے رنگ میں دلائی جائے کہ وہ آزاد پیشہ ہو کر خدمت دین کر سکیں۔جہاں تک ہو سکے لڑکوں کو حفظ قرآن کرایا جاوے۔حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفۃ المسیح اول کی وصیتیں میں پھر اس شخص کو اور جماعت کو یا دھولا تا ہوں۔جو کام حضرت مسیح موعود نے جاری کئے ہیں ان کو کسی صورت بند نہ کیا جاوے ہاں ان کی صورتوں میں کچھ تغیر ہو تو ضرورتوں کے مطابق خلیفہ کو اختیار ہے۔اس قسم کا انتظام آئندہ انتخاب خلفاء کے لئے بھی وہ شخص کر دے۔اللہ تعالی اس شخص کا حافظ حامی اور ناصر ہو اس شخص کو چاہئے کہ اگر وہ دین کی ظاہری تعلیم سے واقف نہیں تو اس کو حاصل کرے دعاؤں پر بہت زور دے ہر بات کرتے وقت سوچ لے کہ آخر انجام کیا ہو گا؟ کسی کا غصہ دل میں نہ رکھے خواہ کسی سے کس قدر اس کو ناراضگی ہو۔اس کی خدمات کو کبھی نہ بھلائے " اس تحریر پر حضرت مولانا شیر علی صاحب کے علاوہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت چوہدری فتح محمد سیال صاحب ، حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب اور حضرت خلیفہ رشید الدین صاحب کے دستخط بطور گواہ ثبت ہیں۔( تاریخ احمدیت جلد ۵ صفحه ۲۳۴ تا ۷ ۲۳۔ایڈیشن ۱۹۶۴ء) ee