سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 371
المسل صاحب ۱۰۔ذوالفقار علی خاں صاحب 11۔میاں بشیر احمد صاحب) ایک جگہ پر جمع ہوں جن کے صدر اس وقت نواب محمد علی خاں صاحب ہوں گے اور اگر کسی وجہ سے وہ شامل نہ ہو سکیں (گو اگر حد امکان میں ہو تو میرا حکم ہے کہ وہ اس میں شامل ہوں) تو پھر یہ جمع ہونے والے لوگ آپ کے مشورے سے کسی شخص کو صدر مقرر کریں پہلے صدر جلسہ سب کے رو برو بآواز بلند کلمہ شہادت پڑھ کر خدا کی قسم کھا کر اس بات کا اقرار کرے کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ اس معاملہ میں رائے دے گا۔اور کسی قسم کی نفسانیت کو اس میں دخل نہ دے گا۔پھر وہ ہر ایک نام زد شخص سے اس قسم کی قسم لے اور سب لوگ صد ر جلسہ سمیت اس بات پر حلف اٹھائیں کہ وہ اس معاملہ کو کسی پر ظاہر نہ کریں گے۔حتی کہ وہ شرائط پوری ہو جائیں جو میں نے اس تحریر میں لکھی ہیں۔اس قسم کے بعد یہ سب لوگ فردا فردا اس بات کا مشورہ دیں کہ جماعت میں سے کس شخص کے ہاتھ پر بیعت کی جاوے تا کہ وہ جماعت کے لئے خلیفہ اور امیرالمومنین ہو صدر جلسہ اس بات کی کوشش کرے کہ سب ممبروں کی رائے ایک ہو۔اگر یہ صورت نہ ہو سکے تو سب لوگ جن کے نام اس کاغذ میں لکھے جاویں گے رات کو نہایت عاجزی کے ساتھ دعا کریں کہ خدایا تو ہم پر حق کھول دے۔دوسرے دن پھر جمع ہوں اور پھر حلف اٹھا ئیں اور پھر اسی طرح رائے دیں۔اگر آج کے دن بھی وہ لوگ اتفاق نہ کر سکیں۔تو ۳/۵ را ئیں جس شخص کے حق میں متفق ہوں۔اس کی خلافت کا اعلان کیا جاوے لیکن اعلان سے پہلے یہ ضروری ہو گا کہ حاضر الوقت احباب سے نواب صاحب یا ان کی جگہ جو صد ر ہو اس مضمون کی بیعت لیں کہ وہ سب کے سب ان لوگوں کے فیصلہ کو بصدق دل منظور کریں گے اور اس بیعت میں وہ لوگ بھی شامل ہوں جن کے نام اس کاغذ پر لکھے جائیں گے اس کے بعد اس شخص کی خلافت کا صدر اعلان کرے جس پر ان ممبروں کا حسب قواعد مذکورہ بالا اتفاق ہو۔بشرطیکہ وہ شخص ان ممبروں میں سے جو صد ر جلسہ ہو اس کے ہاتھ پر اس امر کی بیعت کرے ( جو بیعت کہ میری ہی سمجھی جائے گی اور اس شخص کا ہاتھ میرا ہاتھ ہو گا) کہ میں خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ حضرت صاحب کی بتائی ہوئی تعلیم اسلام پر میں یقین رکھوں گا اور عمل کروں گا اور دانستہ اس سے ذرا بھی ادھر ادھر نہ ہوں گا۔بلکہ پوری کوشش اس کے قیام کی کروں گا روحانی