سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 373
۳۷۳ ۱۹۴۰ء میں بعض احمدی احباب کو اس قسم کی منذر خواہیں آئیں جن میں ایک اور وصیت حضور کی وفات کا ذکر تھا۔ان خوابوں کے پیش نظر صدقات وغیرہ دیئے گئے اور حضور نے مندرجہ ذیل وصیت فرمائی۔اس وصیت سے بھی حضور کی یہ شان نمایاں ہوتی ہے کہ آپ نے زندگی کے کسی موڑ پر کبھی بھی اپنے نفس کو ترجیح نہ دی بلکہ آپ ہمیشہ اعلاء کلمہ اسلام کے لئے ہمہ تن مصروف عمل رہے۔آپ نے اپنی اولاد کو بھی جو نصیحت کی ہے اس میں کسی طرح بھی دنیا طلبی اور مالی منفعت کے حصول کا شائبہ تک نہیں ہے بلکہ انہیں بھی اپنی زندگی خدمت دین کے لئے خرچ کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔برادران! السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔کئی ماہ سے دوستوں کی طرف سے مجھے ایسی خوابوں کی اطلاع آرہی ہے جس میں میری وفات کی خبرا نہیں معلوم ہوئی ہے۔بعض خوابوں میں یہ ذکر بھی ہے کہ صدقہ سے یہ امر مل سکتا ہے۔چونکہ خواب میں جو بات دکھائی جائے اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ اسے پورا کیا جائے۔میں نے ان خوابوں کی بناء پر اس قسم کے صدقات کا انتظام کیا ہے جو بعض لوگوں کو بتائے گئے ہیں اور عام صدقہ کا بھی انتظام کیا ہے۔مگر چونکہ آخر ہر انسان نے مرنا ہے میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ تقوی خدا تعالیٰ پر توکل اور دین کی اشاعت کے لئے اپنے اندر جوش پیدا کریں اور اتحاد جماعت کو کبھی ترک نہ کریں۔اگر وہ ان باتوں پر قائم رہیں گے ، اگر قرآن کریم کو مضبوطی سے پکڑے رکھیں گے ، اگر وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی آواز پر ہمیشہ کان رکھیں گے اور ان کے پیغام کا جواب اپنے دلوں سے دیتے ہوئے دنیا تک اسے پہنچاتے رہیں گے تو اللہ تعالٰی ہمیشہ ان کا حافظ و ناصر رہے گا اور کبھی دشمن ان کو ہلاک نہ کر سکے گا۔بلکہ ان کا قدم ہمیشہ آگے ہی آگے پڑے گا۔انشاء اللہ تعالی۔میں یہ بھی اعلان کرتا ہوں کہ میری نیت ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بغیر وصیت کے مقبرہ بہشتی میں دفن ہونے کا حق دیا ہے اس لئے اس کے شکریہ میں نہ کہ مقبرہ بہشتی کی وصیت کے طور پر اپنی جائیداد کاوہ تھوڑا ہو یا بہت ایک حصہ ان اغراض کے لئے جو مقبرہ بہشتی کے قیام کی ہیں وقف کر دوں۔سو اس کے مطابق میں اعلان کرتا ہوں کہ میری جائیداد جو بھی قرضہ کی ادائیگی کے بعد بچے۔اس کی آمد کا