سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 363
۳۶۳ ہیں اور دو سرے جماعت اسلامی کے بانی و امیر" ( صدق جدید -۲۸ مئی ۱۹۵۴ء بحوالہ ماہنامہ الفرقان ربوہ جولائی ۱۹۵۴ء) پچھلے صفحات کے مطالعہ سے اس پر آشوب زمانہ کا کسی قدر اندازہ ہو جاتا ہے۔ان حالات میں ہمارے پیارے امام نے جماعت کو ہر قسم کی لاقانونیت اور عدم تعاون سے جس طرح الگ رکھا وہ حضور کی قائدانہ صلاحتیوں کا ایک بھر پور مظاہرہ اور خدائی تائید و نصرت کا عظیم جلوہ ہے۔۱۹۳۴ء کی مخالفانہ کاروائیوں کے جواب میں حضور نے تحریک جدید کا آغاز فرمایا تھا۔اس موقع پر حضور نے جماعت کو صبر و صلوۃ " کی تلقین فرمائی اور حضور کے ارشاد پر ربوہ کی مرکزی مسجد میں علماء سلسلہ نے قرآن وحدیث کے درس دینے شروع کئے تا افراد جماعت اس روحانی اسلحہ سے لیس ہو کر وہ ایمانی طاقت و قوت حاصل کر لیں جس سے اخلاص و قربانی کے جذبہ کو ترقی ملے اور ایمانی جرأت و قربانی سے ٹکرا کر مخالفوں کی مخالفت ناکام ہو جائے۔انتہائی مشکل حالات میں حضور جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے ہر احمدی سے یہ توقع اور خواہش کر رہے ہیں کہ ان میں سے ہر فرد اپنے مقاصد کو سامنے رکھ کر ان کے حصول کی کوشش کرتا چلا جائے۔آپ فرماتے ہیں۔" تم نے اجتماعیت کا نہایت اعلیٰ نمونہ دکھایا ہے۔اب تم نے انفرادیت کا بھی نمونہ دکھانا ہے۔بہت سے احمدی گھبرا کر میرے پاس آتے ہیں تو میں انہیں یہی کہتا ہوں کہ تم میں سے ہر ایک خلیفہ کا قائم مقام ہے، تم میں سے ہر ایک دین کا مرکز ہے ، تم میں سے ہر ایک کو سمجھ لینا چاہئے کہ احمدیت اور اسلام کا احیاء اور بقا اس کے ذمہ ہے ، تم میں سے ہر ایک کا گھر احمدیت کا مرکز ہے جس سے احمدیت کا نور دنیا میں پھیلے گا تم نے اجتماعیت کا بہت اعلیٰ نمونہ دکھایا ہے اب خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم انفرادیت کا نمونہ بھی دکھاؤ۔اگر مخالفت بڑھ جائے تو تم نے مرکز سے مشورہ کئے بغیر اپنا دعا اپنے سامنے رکھ کر اسلام کو پھیلانا ہے، احمدیت کی اشاعت کرنا ہے، تمہیں یہ عزم کر دینا چاہئے کہ اگر تمہارے چاروں طرف دشمن کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر بھی ہو تو تمہاری گردن نیچے نہیں ہو گی بلکہ اسلام اور احمدیت کے پیغام کو مرتے دم تک لوگوں کو پہنچاتے چلے (خطبہ جمعہ۔الفضل ۲۶۔اگست ۱۹۵۲ء) جاؤ گے۔"