سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 362 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 362

۳۶۲ بے حیثیت آدمیوں غرض سب کے لئے کوئی نہ کوئی روزگار موجود ہے۔(رپورٹ صفحہ ۳۰۷) تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ کا یہ اقتباس موجودہ حالات میں بھی جبکہ اس تبصرہ کو چار دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے ہمارے اہل فکر اور اصحاب حل و عقد کے لئے غور فکر کی راہ متعین کرتا ہے۔ہندوستان کے مشہور ادیب ، مصنف، صحافی، قرآن پاک کے مترجم مولانا عبد الماجد دریا آبادی نے تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ میں سے بعض اقتباسات بیان کرنے کے بعد نہایت مختصر اور جامع تبصرہ کرتے ہوئے " خارجیت کی جارجیت " کے زیر عنوان لکھا۔”انٹی احمد یہ بلوؤں کی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے دو سوالوں کے دو جواب:۔(1) " کیا آپ ہندوؤں کا جن کی بھارت میں اکثریت ہے یہ حق تسلیم کریں گے کہ وہ اپنے ملک کو ہندو دہار لک کی ریاست بنائیں ؟ جواب۔جی ہاں۔کیا اس طرز حکومت میں منو سمرتی کے مطابق مسلمانوں سے ملیچھوں یا شودروں کا سا سلوک ہونے پر آپ کو کچھ اعتراض تو نہیں ہو گا۔جواب۔ہی نہیں۔(۲) اگر پاکستان میں اس قسم کی اسلامی حکومت قائم ہو جائے تو کیا آپ ہندوؤں کو اجازت دیں گے کہ وہ اپنا آئین اپنے مذہب کی بنیاد پر بنا ئیں ؟ جواب۔یقیناً بھارت میں اس قسم کی حکومت مسلمانوں سے شودروں اور ملیچھوں کا سا سلوک بھی کرے اور ان پر منو کے قوانین نافذ کر کے انہیں حقوق شہریت سے محروم اور حکومت میں حصہ لینے کے نااہل قرار دے ڈالے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔یہ دونوں جوابات آپ کو یقین آئے گا کہ کن کی زبان سے ادا ہوئے ہیں ! پہلا جواب صدر جمعیت علماء پاکستان ابو الحسنات مولانا محمد احمد قادری رضوی (بریلوی) کا ہے۔اور دوسرا بانی و امیر جماعت اسلامی مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کا۔اِنَّا لِلَّهِ ثُمَّ إِنَّا لِلَّهِ کس نے ڈبوئی خضر نے! مسلمانان ہند کا بڑے سے بڑا دشمن بھی کیا اس سے بڑھ کر کوئی جواب دے سکتا تھا! فریاد بجز مالک حقیقی کے اور کس سے کیجئے !۔کس شقاوت کے ساتھ چار کروڑ کلمہ گوؤں کو سیاسی موت کا حکم سنایا جا رہا ہے۔اور ان میں سے ایک جمعیت علمائے پاکستان کے صدر ناؤ