سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 364 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 364

۳۶۴ ایک نہایت حساس اور نازک مذہبی مسئلہ کو بنیاد عدو شرے برانگیزد که خیر مادر آن باشد بنا کر۔خدا اور رسول کے نام کو استعمال کرتے ہوئے حالات کو سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق اس حد تک پہنچادیا گیا کہ جماعت ہی نہیں بظاہر پاکستان کا وجود بھی خطرے میں پڑ گیا۔قوت فیصلہ کی کمی اور مذہب کا نام درمیان میں آنے کی وجہ سے شور و شر میں اضافہ ہو تا چلا گیا اور وہ ذمہ دار لوگ جنہوں نے آخر وقت پر بہت تردد کے ساتھ اس فتنہ کو سختی سے کچلنے کا انتظام کیا وہ یقیناً جماعت کی حفاظت یا جماعت کی حمایت کی غرض سے یہ کام نہیں کر رہے تھے بلکہ ان کے مد نظر اپنی کرسیوں اور عہدوں کا بچاؤ اور حفاظت تھی۔تاہم اس طریق پر جب شرانگیزی کا گردو غبار بیٹھنے لگا تو خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت پہلے سے کہیں زیادہ آگے نکل چکی تھی اور دنیا نے دیکھا اور اقرار کیا کہ خدا کی نام لیوا جماعت خدائی تائید و نصرت کے نئے نئے نشانوں سے مزین ہو رہی ہے۔پاکستان اور بیرون پاکستان تعداد میں معتد بہ اضافہ ہو چکا ہے۔اشاعت اسلام اور اشاعت قرآن کا کام روز افزوں ترقی پر ہے۔( تحقیقاتی عدالت کی کارروائی کے دوران قرآن مجید کا ڈچ اور سواحیلی ترجمہ صدر پاکستان اور جسٹس محمد منیر صد رعدالت کو پیش کیا گیا) اخبارات میں جماعت کے متعلق اتنا زیادہ چرچا ہوا کہ جماعت اپنے ذرائع سے اس قدر چر چا کسی صورت میں بھی نہ کر سکتی تھی۔دوسری طرف مخالفین میں اس طرح پھوٹ پڑی کہ وہ فسادات کا الزام ایک دوسرے پر دھرتے ہوئے راز ہائے درون خانہ کھولنے لگے۔دو لاکھ کی خطیر رقم جو تحفظ ختم نبوت کے نام پر دھوکے سے حاصل کی گئی تھی اس کی تقسیم پر جوتیوں میں دال بنتی رہی۔وہ علماء جو بڑی غیرت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ قربانیاں دینے میں سبقت لے جانے کا ادعا کر رہے تھے وہ جیل میں جاتے ہی معافی نامے داخل کر کے جیل سے باہر آنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے لگے۔مارشل لا حکام نے خونریزی و فساد کے ذمہ دار بعض مولویوں کو سزائے موت دی جو بعد میں حالات کی تبدیلی سے بدل دی گئی۔لیکن علیم و بصیر خدا تو خوب جانتا ہے کہ معصوم اور نہتے شہریوں پر صرف اس جرم میں کہ وہ اپنے عقائد پر اخلاص سے ثابت قدم رہنا چاہتے تھے مظالم کا پہاڑ گرانے والے کس انجام کے مستوجب ہیں۔حضرت مصلح موعود فسادات اور شرانگیزی کے اس پہلو پر اپنے مخصوص رجائی انداز میں روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں۔