سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 339 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 339

۳۳۹ ابتلاء اور مصائب میں ایک مومن کے لئے جو فوائد و برکات متوقع ہوتے ہیں ان کی نشان دہی کرتے ہوئے فرمایا۔مصائب کا وقت ایک مومن کے لئے خوشی کا موقع ہوتا ہے اس لئے کہ خدا تعالیٰ اس کے قریب آجاتا ہے۔جتنا جتنا د شمن اس کے قریب آتا جاتا ہے خدا تعالیٰ اس سے بھی زیادہ تیز قدمی سے اس کے قریب آجاتا ہے اور جب دشمن اس کے قریب آ جاتا ہے تو خد اتعالیٰ اس کے اندر داخل ہو چکا ہوتا ہے اس طرح جب دشمن مومن پردار کرتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ پر وار کرتا ہے پس تمہارے لئے عزت حاصل کرنے کا موقع ہے۔تم بہادری کے ساتھ کام کرو اگر یہ موقع تمہارے ہاتھوں سے چلا گیا تو تمہارے لئے عزت کے حاصل کرنے کا اور کون سا موقع آئے گا۔" الفضل ۸۔اگست ۱۹۵۲ء) اسی اصول پر روشنی ڈالتے ہوئے ایک اور موقع پر آپ نے فرمایا۔” یاد رکھو وہ دن اب قریب بلکہ قریب سے قریب تر آ رہا ہے جبکہ یا تو تم دنیا پر غالب آجاؤ گے اور یا پھر تم دنیا سے مٹادیے جاؤ گے اب دو ہی صورتیں باقی ہیں یا تو تم وہ دل پیدا کرو جو دنیا کی ساری شیطانی طاقتوں کو بھسم کر کے رکھ دے اور اگر تم نے ایسا دل پیدا نہ کیا تو پھر دوسری صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تم کو بھسم کر دے گا اور تمہاری موت صرف تمہاری موت ہی نہ ہوگی بلکہ دنیا کی موت بھی ہوگی کیونکہ تمہاری موت کا مطلب یہی ہے کہ دنیا میں شیطانی نظام کو زندہ رہنے اور پنپنے کا موقع دے دیا جائے۔اور اگر شیطانی نظام زندہ رہے تو اس میں کیا شک ہے کہ وہ دنیا کے لئے موت کا پیغام ہے پس تمہاری زندگی میں تو تمہاری بھی زندگی ہے اور دنیا کی بھی زندگی ہے لیکن تمہاری موت میں نہ صرف تمہاری بلکہ دنیا کی بھی موت ہے۔پس اپنی زندگی کو سنوارنے کی کوشش کرو اور اسے زیادہ سے زیادہ اسلامی رنگ میں رنگین کرنے کی کوشش کرد۔۔۔۔اپنی اصلاح کرو اور اپنی اصلاح کے سلسلہ میں پہلا قدم یہ اٹھاؤ کہ نمازوں کو وقت پر ادا کرنے کی کوشش کرو اور جس جگہ نماز جمع کرنے کی اجازت بھی ہو وہاں بھی حتی الامکان نماز میں جمع نہ کرو تا کہ سختی کے ساتھ وقت پر نماز ادا کرنے کی جماعت میں رو پیدا ہو جائے اور کمزور لوگوں کے ایمان محفوظ ہو جائیں۔" (الفضل ۲۶ مارچ ۱۹۴۸ء صفحه ۴)