سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 338 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 338

۳۳۸ ہوتی ہے کہ اسے جھوٹا کہا جائے۔اب کیا حکومتیں کسی کو جھوٹا کہنے سے روک سکتی ہیں ؟ اگر وہ جلسے روک دیں گی تو لوگ گھروں میں بیٹھے باتوں باتوں میں جھوٹا کہیں گے اور اگر حکومت اور زیادہ دبائے گی تو وہ دلوں میں جھوٹا کہیں گے۔اب دلوں میں برا منانے سے کون سی طاقت روک سکتی ہے ؟ اگر ایک شخص صداقت سے محروم ہے۔وہ ناواقف ہے اس لئے وہ صداقت سے دشمنی کرتا ہے اور وہ شیطان کے ہاتھ میں پڑ گیا ہے تو جب تک اس کا دل صاف نہ ہو اس کی دشمنی کو دور نہیں کیا جا سکتا اور جس دن اس کا دل صاف ہو جائے گا تو کیا کوئی ایسی طاقت ہے یا کوئی ایسی حکومت ہے جو اس سے مخالفت کروا سکے ؟ جو لوگ احمدیت کے دشمن ہیں حکومت اگر چاہے بھی تو ان کے دلوں سے دشمنی کو نہیں نکال سکتی اسی طرح جن لوگوں نے احمدیت کو قبول کر لیا ہے اگر حکومت چاہے بھی تو ان کے دلوں سے بانی سلسلہ احمدیہ کی محبت کو نہیں نکال سکتی۔ہمارا مقابلہ اور ہماری جنگ دل سے ہے۔اور جب ہمارا مقابلہ اور ہماری جنگ دل سے ہے تو حکومت پر نظر رکھنی فضول ہے۔تمہاری فتح دلوں کی فتح ہے اور جب دل فتح ہو جائیں گے تو تمہیں فتح حاصل ہو جائے گی۔اگر تم نے دلوں کو فتح کر لیا تو تم دیکھو گے کہ یہی افسر جو آج تمہارے خلاف دوسروں کو اکساتے ہیں۔ہاتھ جوڑ کر تمہارے سامنے کھڑے ہو جائیں گے اور کہیں گے ہم تو آپ کے ہمیشہ سے خادم ہیں۔پھر تم یہ بات بھی مت بھولو کہ تمہارا تو کل خدا تعالیٰ پر ہے حکومت پر نہیں۔پھر جہاں تمہارا یہ فرض ہے کہ ان امور کو حکومت کے سامنے لے جاؤ وہاں اگر تمہیں مایوسی نظر آتی ہے تو مایوس مت ہو کیونکہ اصل بادشاہ خدا تعالیٰ ہے اور جو فیصلہ بادشاہ کرے گا وہی ہو گا۔انسان جو فیصلہ کرے گاوہ نہیں ہو گا۔" خدائی تائید و نصرت کی بشارت دیتے ہوئے حضور نے بڑے پر شوکت الفاظ میں فرمایا۔"اگر تم نیکی اور معیار دین کو بڑھانے کی کوشش کرتے رہو گے تو وہ تمہیں کبھی نہیں چھوڑے گا۔کبھی نہیں چھوڑے گا۔کبھی نہیں چھوڑے گا۔اگر دنیا کی ساری طاقتیں بھی تمہاری مدد کرنے سے انکار کر دیں تو خدا تعالیٰ تمہیں نہیں چھوڑے گا اس کے فرشتے آسمان سے اتریں گے اور تمہاری مدد کے سامان پیدا کریں گے۔" الفضل ۲۳۔مئی ۱۹۵۲ء)