سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 289
۲۸۹ مشکل یہ کہ ہم سارے ہندوستان میں پھیلے ہوئے ہیں اور اسی وجہ سے دسویں حصہ کے برابر بھی اپنے حقوق حاصل نہیں کر سکتے۔بس میں وہاں اپنے لئے نہیں گیا تھا بلکہ اس لئے گیا تھا کہ وہ ہزاروں ہزار ہند و جو مختلف علاقوں میں مارا جا رہا ہے ان کی جان بچ جائے نہ وہ میرے رشتہ دار ہیں نہ واقف ہیں نہ دوست ہیں کوئی بھی تو ان کا میرے ساتھ تعلق نہیں سوائے اس تعلق کے کہ میرے پیدا کرنے والے خدا نے ان کو بھی پیدا کیا ہے اور میرا فرض ہے کہ میں ان کی جانوں کی حفاظت کروں صرف اس دکھ اور درد کی وجہ سے میں وہاں گیا اور صرف اس دکھ اور درد کی وجہ سے میں نے ان کوششوں میں حصہ لیا۔مگر مجھے افسوس ہے گاندھی جی نے میرے اخلاص کی قدر نہ کی اور انہوں نے کہہ دیا کہ میری بات کون مانتا ہے میں تو صرف گاندھی ہوں انہوں نے یہ فقرہ محض ٹالنے کے لئے کہا تھا مگر خدا تعالٰی نے واقع میں ایسا کر دکھایا اور پنڈت نہرو نے گفتگو کرنے والوں سے صاف کہہ دیا کہ یہ ہمارا فیصلہ نہیں۔گاندھی جی کا فیصلہ ہے اور ہم گاندھی جی کا یہ فیصلہ ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں۔”جب حالات یہ رنگ اختیار کر گئے تو مسٹر جناح نے نہایت ہوشیاری اور عظمندی سے کام لیتے ہوئے وائسرائے کو لکھ دیا کہ کانگریس سے تو ہمارا فیصلہ نہیں ہو سکا لیکن ہم آپ کی پیشکش کو قبول کرتے ہوئے حکومت میں شامل ہوتے ہیں۔اس طرح کام بھی ہو گیا اور بات بھی بن گئی اور مسٹر گاندھی اس معاملہ میں خالی گاندھی بن کر رہ گئے۔ہمارا دھلی سے جمعہ کو چلنے کا ارادہ تھا۔مگر بدھ کے دن ہمیں معلوم ہوا کہ مصالحت کی گفتگو میں خرابی پیدا ہو رہی ہے۔چونکہ ہمارے تعلقات تمام لوگوں کے ساتھ تھے اس لئے قبل از وقت ہمیں حالات کا علم ہو جا تا تھا جب مجھے معلوم ہوا کہ کام بگڑ رہا ہے تو میں نے دوستوں کو بلایا اور ان سے مشورہ لیا اور انہیں کہا کہ ہم اتنی مدت یہاں رہے ہیں اب ہمیں اتوار تک اور ٹھہر جانا چاہئے۔پہلے تو اتوار تک ٹھہرنے کا ارادہ تھا لیکن معلوم ہوا کہ اتوار کو گاڑی ریزو نہیں ہو سکتی اس لئے ہم نے پیر کے دن چلنے کا فیصلہ کیا اور عین پیر کے دن صبح کے وقت فیصلہ ہو گیا اور ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے اس جھگڑے کو نپٹا کر گھر واپس آئے۔الفضل ۱۳ نومبر ۱۹۴۶ء) دہلی کے اس تاریخی سفر کا ذکر کرتے ہوئے ایک اور موقع پر آپ نے فرمایا :۔