سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 288 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 288

۲۸۸ تحریک ہمارے لئے مفید ہوگی بالکل باموقع ہوگی اور ہم یہ سمجھیں گے کہ اس ذریعہ سے ہماری مدد کی گئی ہے۔ہمارے راستہ میں روڑے نہیں اٹکائے گئے۔ہندوستان کے چوٹی کے لیڈروں سے اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں:۔" غرض گاندھی جی پر میں نے یہ بات واضح کی اور انہیں کہا کہ آپ کو اس بارہ میں کچھ کرنا چاہئے اور صلح کی کوشش کرنی چاہئے گاندھی جی نے اس کا جو جواب دیا تھا وہ یہ تھا کہ یہ کام آپ ہی کر سکتے ہیں میں نہیں کر سکتا۔میں تو صرف گاندھی ہوں یعنی میں تو صرف ایک فرد ہوں۔آپ تو ایک جماعت کے لیڈر ہیں میں نے کہا میں تو صرف پانچ سات لاکھ کا لیڈر ہوں اور ہندوستان میں پانچ سات لاکھ آدمی کیا کر سکتا ہے مگر انہوں نے اصرار کیا اور کہا کہ جو کچھ کر سکتے ہیں آپ ہی کر سکتے ہیں میں نہیں کر سکتا۔” جب میں نے دیکھا کہ گاندھی جی اس طرف نہیں آتے تو میں نے اس بات کو چھوڑ دیا اور پھر بھی انہیں دوسری نصیحتیں کرتا رہا جن کی خدا نے مجھے اس وقت توفیق عطا فرمائی۔گاندھی جی کہتے تھے میں تو کچھ نہیں کر سکتا جو کچھ کر سکتے ہیں آپ ہی کر سکتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے ایسا ہی کر دیا اور میرے وہاں جانے کی وجہ سے جھگڑے کا تصفیہ ہوا اس کا یہ مطلب نہیں کہ تصفیہ میں نے کیا مگر کوشش ہم برابر کر رہے تھے۔مگر سوال یہ ہے کہ پہلے چار پانچ دفعہ صلح کی کوشش ہو چکی تھی۔گورنمنٹ نے بھی زور لگایا مگر اس معاملہ کا کوئی تصفیہ نہ ہوا۔آخر میرے وہاں ہونے اور دعائیں کرنے سے نہ معلوم کون سے دنوں کی کنجیاں کھول دی گئیں کہ میرے وہاں جانے سے وہ کام جو پہلے بار بار کوششوں کے باوجود نہیں ہوا تھا ہو گیا اور گاندھی جی کا یہ فقرہ درست ثابت ہوا کہ میں تو یہ کام نہیں کر سکتا آپ ہی کر سکتے ہیں۔چنانچہ پنڈت نہرو صاحب نے یہی کہا کہ اس معاملہ میں گاندھی جی سے ہمارا کیا تعلق یہ گاندھی جی کا اپنا فیصلہ ہے۔ہمارا فیصلہ نہیں۔میرے نزدیک گاندھی جی نے محض بات کو ملانے کی کوشش کی تھی اور ان کا مطلب یہ تھا کہ میں اس تحریک میں حصہ بینا ضروری نہیں سمجھتا حالانکہ وہاں محض ہندوؤں اور مسلمانوں کی خیر خواہی کے لئے کہا گیا ورنہ وزارتوں میں ہمارا کوئی حصہ نہیں۔کانسٹی ٹیوٹ میں ہمارا کوئی حصہ نہیں۔اگر ہم دو تین ضلعوں میں اکٹھے ہوں تو یقینا ہم اپنے نمائندے زور سے بھیج سکتے ہیں۔لیکن