سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 290 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 290

۲۹۰ اس کے بعد میں دہلی گیا اور مسلمانوں کی پریشانی کو دور کرنے کے لئے ہم جو کوشش کر سکتے تھے ہم نے کی۔ہم نے انتہائی کوشش کی کہ مسلم لیگ کسی طرح عارضی حکومت میں آجائے ہم نے دعاؤں کے ذریعہ تدبیروں کے ذریعہ کوششوں کے ذریعہ اس کام کو سرانجام دینے کے لئے سعی کی گو کانگریس یہ نہیں چاہتی تھی کہ مسلم لیگ عارضی حکومت میں آئے لیکن اللہ تعالی نے ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ مسلم لیگ عارضی حکومت میں داخل ہو گئی اور کانگریس پر ان کا اندر آنا گراں گزرنے لگا اور انہوں نے ایسی کارروائیاں شروع کیں کہ آزادی کے خیال خواب بننے لگے۔آخر وہی جو میں نے کہا تھا پنڈت نہرو کو میرٹھ کے اجلاس میں کہنا پڑا۔انہوں نے کہا ہم یہ سمجھتے تھے کہ انگریزوں نے ہمیں آزادی دے دی ہے۔اور جو آزادی ہمیں ملنی چاہئے تھی وہ مل گئی ہے اور لارڈ ویول ہمارے ساتھ اس طرح کام کرتے رہے کہ ہمیں ان کے متعلق حسن ظن تھا لیکن اب آہستہ آہستہ جب سے مسلم لیگ حکومت میں آگئی ہے پہلے جیسے حالات نہیں رہے اور مسلم لیگ اور انگریزوں میں کوئی سازش معلوم ہوتی ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انگریز آہستہ آہستہ آزادی دینے سے بچ رہے ہیں اور انگریزوں کے ارادے اب بدلے ہوئے معلوم ہوتے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اب ہمیں آزادی دینے کو تیار نہیں اور مسلم لیگ ان کے پنجہ کو مضبوط کر رہی ہے۔اب دیکھو کیسنی وضاحت کے ساتھ پنڈت نہرو نے یہ تسلیم کیا ہے کہ اب انگریز اپنے ہاتھ کو پہلے کی نسبت مضبوط کر رہے ہیں"۔(الفضل ۶ - دسمبر ۱۹۴۶ء) ان حالات کو جانے والے بخوبی جانتے ہیں کہ قائد اعظم عارضی حکومت میں شمولیت سے انکار کر چکے تھے۔قائد اعظم کی اصول پسندی اور اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کی طبیعت اور عادت کی وجہ سے بظاہر یہ بات نا ممکن نظر آتی تھی کہ وہ اپنے اس فیصلہ پر نظر ثانی کریں تاہم اللہ کے ایک بندے کی دعاؤں ، تدبیروں اور کوششوں سے یہ بات ہو کر رہی اور قائد اعظم نے عبوری حکومت میں شامل ہو کر کانگریس انگریز گٹھ جوڑ اور اس کے بداثرات سے مسلمانوں کو بچالیا اور قیام پاکستان کی بنیادی اینٹ نہایت مضبوطی سے رکھ دی گئی۔یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ کے اس اقدام کو ہندو پریس نے کانگریس کی مسلسل لمبی کوشش سے تعمیر کردہ عمارت کو گرانے سے تعبیر کیا۔پر تاپ بحوالہ نوائے وقت ۱۶ اکتوبر ۱۹۴۶ء)