سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 271 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 271

۲۷۱ کے لئے وہاں جمع تھے پہنچایا اور اس طرح ہندوستانی رہنماؤں کو (حضرت صاحب) کے جذبات اور بروقت مشوروں سے آگاہی ہوئی۔نہایت اہم انتخابات شملہ کانفرنس جو ۲۵۔جون سے ۱۴۔جولائی تک جاری رہی اس وجہ سے ہی ناکام ہو گئی کہ کانگریس مسلم لیگ کو مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ماننے پر تیار نہیں تھی اور مسلم لیگ بھی غیر لیگی مسلمانوں کی ایگزیکٹو کونسل میں شمولیت کو ماننے کے لئے آمادہ نہیں تھی۔شملہ کانفرنس میں قائد اعظم نے ملک میں انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا۔لارڈ ویول نے اس کا نفرنس میں تو اس مطالبہ کو تسلیم نہ کیا تاہم واپس انگلستان جا کر وہاں کی نئی لیبر حکومت سے مشورہ کے بعد مرکزی اور صوبائی مجالس قانون ساز کے انتخاب کا اعلان کر دیا۔ان حالات میں انتخابات کی اہمیت بہت زیادہ تھی کیونکہ انہی کے نتائج پر ہندوستان کی آزادی اور پاکستان کے قیام یا مسلم لیگ کی حیثیت کا تعین و اظہار ہونا تھا۔اس انتخاب کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے قائد اعظم نے ہندوستان کے مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا :۔" موجودہ حالات میں انتخابات کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ہم رائے دہندگان کی اس امر کے بارے میں رائے دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ کیا وہ پاکستان چاہتے ہیں یا ہندو راج کے ماتحت رہنا چاہتے ہیں۔۔۔مجھے معلوم ہے کہ ہمارے خلاف بعض طاقتیں کام کر رہی ہیں اور کانگریس ارادہ کئے بیٹھی ہے کہ ہماری صفوں کو ان مسلمانوں کی امداد سے پریشان کر دیا جائے جو ہمارے ساتھ نہیں ہیں۔مجھے افسوس ہے کہ وہ مسلمان ہمارے ساتھ نہیں ہیں بلکہ ہمارے دشمنوں کے ساتھ ہیں۔یہ مسلمان ہمارے خلاف مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے کام میں بطور کارندے استعمال کئے جا رہے ہیں۔یہ مسلمان سدھائے ہوئے پرندے ہیں۔یہ صرف شکل و صورت کے اعتبار سے ہی مسلمان ہیں۔ee (اخبار انقلاب لاہور ۱۸۔اکتوبر بحواله تاریخ احمدیت جلد ۱۰ صفحه ۲۷۰) بر صغیر ہند و پاک میں حب الوطنی اور ذاتی اور گروہی مفاد پر قومی مفاد کو ترجیح دینے کا ایسا مرحلہ پہلے کبھی کم ہی آیا ہو گا۔یہ انتخابات مسلمانوں کی قسمت اور صدیوں تک ان کی بہتری یا اس کے بر عکس اثر انداز ہونے والے تھے۔حضرت امام جماعت احمدیہ نے جن کی قومی فلاح و بہبود سے دلچسپی اور ہمدردی ہر مرحلہ پر ظاہر ہوتی رہی اس موقع پر بھی بہت سی روکوں اور مشکلات کے