سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 272
۲۷۲ باوجود واشگاف الفاظ میں مسلم لیگ کے موقف کو درست اور مسلم بہتری کا ضامن قرار دیتے ہوئے جماعت کو تاکید فرمائی کہ وہ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ کو ہی ووٹ دیں اور اسے کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے ہر ممکن ذریعہ استعمال میں لائیں۔اس سلسلہ میں آپ نے اپنے ایک مفصل بیان میں کانگریں اور لیگ کے مؤقف کا موازنہ کرتے ہوئے آخر میں فرمایا :۔جو صورت حال میں نے اوپر بیان کی ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ آئندہ الیکشنوں میں ہر احمدی کو مسلم لیگ کی تائید کرنی چاہئے تا انتخاب کے بعد مسلم لیگ بلا خوف تردید کانگریس سے یہ کہہ سکے کہ وہ مسلمانوں کی نمائندہ ہے اگر ہم اور دوسری مسلم جماعتیں ایسا نہ کریں گی تو مسلمانوں کی سیاسی حیثیت کمزور ہو جائے گی اور ہندوستان کے آئندہ نظام میں ان کی آواز بے اثر ثابت ہو گی۔" (الفضل ۲۲۔اکتوبر ۱۹۴۵ء) وقت کے اس اہم تقاضا کی طرف مزید توجہ دلاتے اور تاکید کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔تمام صوبہ جات کے احمدیوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اپنی اپنی جگہ پر پورے زور اور قوت کے ساتھ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ کی مدد کریں اس طرح کہ : (1) جس قدر احمدیوں کے ووٹ ہیں وہ اپنے حلقہ کے مسلم لیگی امیدوار کو دیں۔(۲) میرا تجربہ ہے کہ احمدیوں کی نیکی اور تقویٰ اور سچائی کی وجہ سے بہت سے غیر از جماعت بھی ان کے کہنے پر ووٹ دیتے ہیں۔پس میری خواہش ہے کہ نہ صرف یہ کہ تمام احمدی اپنے ووٹ مسلم لیگ کو دیں بلکہ جو لوگ ان کے زیر اثر ہیں ان کے دوٹ بھی مسلم لیگ والوں کو دلائیں۔(۳) ہماری جماعت چونکہ اعلیٰ درجہ کی منتظم ہے اور قربانی اور ایثار کا مادہ ان میں پایا جاتا ہے اور جب وہ عزم سے کام کرتے ہیں تو حیرت انگیز طور پر دلوں کو ہلا دیتے ہیں۔ہر احمدی سے یہ بھی خواہش کرتا ہوں کہ وہ اپنے علاقہ کے ہر مسلمان کو مسلم لیگ کے حق میں ووٹ دینے کی تلقین کرے اور اس قدر زور لگائے کہ اس کے حلقہ اثر میں مسلم لیگی امیدوار کی کامیابی یقینی ہو۔تمام جگہوں پر مسلم لیگ کے کارکنوں کو یہ محسوس ہو جائے کہ گویا احمدی یہ سمجھ رہے ہیں کہ مسلم لیگ کا امید وار کھڑا نہیں ہوا کوئی احمدی امیدوار کھڑا ہوا ہے۔(انفضل ۲۲۔اکتوبر ۱۹۴۵ء) et _