سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 270 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 270

۲۷۰ کہ وہ ہندوستان کے چالیس کروڑ غلاموں کی زنجیریں کاٹنے کے لئے تیار ہو جائیں کیونکہ یہ نہ صرف ہمارے لئے مفید ہے بلکہ آئندہ دنیا کے امن کے لئے بھی مفید ہے۔وہ وائسرائے جو انگلستان کی طرف سے ہندوستان پر حکومت کرنے کے لئے آیا ہوا ہے وہ کہتا ہے کہ میں ہندوستان کو آزاد کرتا ہوں، انگلستان کا صناع جو ہندوستان کو لوٹ کر اپنی صنعت کو فروغ دے رہا ہے وہ کہتا ہے کہ میں ہندوستان کو آزاد کرنے کیلئے تیار ہوں، انگلستان کی وہ ٹوری (Conservative ) گورنمنٹ جو ہندوستان پر ہمیشہ جبری حکومت کے لئے کوشش کرتی چلی آئی ہے وہ کہتی ہے کہ میں ہندوستان کو آزادی دینے کیلئے تیار ہوں، انگلستان کی لیبر پارٹی (Labour) اعلان کر رہی ہے کہ ہم ہندوستان کو آزادی دینے کیلئے تیار ہیں، انگلستان کے پریس کا بیشتر حص۔۔۔۔۔۔شور مچا رہا ہے کہ ہندوستان کو آزادی دے دی جائے امریکہ اور فرانس اور بعض دوسرے ، ممالک جن کا براہ راست ہندوستان سے کوئی واسطہ نہیں وہ بھی شور مچا رہے ہیں کہ ہندوستان کو آزادی دے دی جائے لیکن اگر انگلستان ہندوستان کو آزادی دینے کے تیار ہے تو ہندوستان کے بعض اپنے سپوت آزادی لینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔پس ان دنوں میں اللہ تعالیٰ سے خاص دعائیں کرو کہ جن لوگوں کے ہاتھ میں یہ معاملات ہیں اللہ تعالیٰ انہیں اس بات کی توفیق عطا فرمائے کہ وہ راہ راست پر آجائیں اور ہندوستانی غلاموں کی زنجیروں کو کاٹ کر وہ ہندوستان کو اعلیٰ مقام پر پہنچانے والے ہوں"۔(الفضل ۲۳- جون ۱۹۴۵ء) اس خطبہ پر تبصرہ کرتے ہوئے مشہور معاند احمدیت مولوی ثناء اللہ امرتسری نے اپنے اخبار اہلحدیث " میں لکھا ” یہ الفاظ جس جرأت کا ثبوت دے رہے ہیں کانگریسی تقریروں میں اس سے زیادہ نہیں ملتے۔چالیس کروڑ ہندوستانیوں کو غلامی سے آزاد کرانے کا ولولہ جس قدر خلیفہ جی کی اس تقریر میں پایا جاتا ہے وہ گاندھی جی کی تقریر میں بھی نہیں ملے (۶۔جولائی ۱۹۴۵ء) گا۔" مندرجہ بالا معرکۃ الآراء خطبہ اور اس کا انگریزی ترجمہ جناب شیخ رحمت اللہ صاحب شاکر نمائندہ الفضل نے کانگریس اور لیگ کے تمام بڑے بڑے لیڈروں کو جو اس وقت شملہ کانفرنس