سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 227 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 227

۲۲۷ حضور نے انگریزوں کو ان کے فرائض یاد دلاتے ہوئے واشگاف الفاظ میں فرمایا :۔اس کے بعد میں انگریز افسران حکومت کو خواہ ہندوستان کے ہوں خواہ انگلستان کے خصوصا اور باقی انگریزوں کو عموما کہتا ہوں کہ آپ لوگوں پر ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔خدا تعالیٰ نے آپ کے سپرد ایک امانت کی ہے اس امانت کو صحیح طور پر ادا کرنا آپ کا فرض ہے۔تم اس سیاسی امر میں اس کا ذکر کرنے پر منسو یا مجھے بیوقوف سمجھو لیکن حق یہی ہے کہ ایک دن سب کو اس کے حضور جوابدہ ہونا ہے۔بہت ہیں جو اس زندگی میں اس کی ہستی کو نظر انداز کر دیتے ہیں لیکن ان کی موت کے وقت کی گھڑیاں حسرت و اندوہ میں گزرتی ہیں۔پس چاہئے کہ آپ اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اور خدا تعالیٰ کے سامنے جوابدہی کو مد نظر رکھتے ہوئے ہندوستان کے تینتیس کروڑ آدمی کی قسمت کے فیصلہ کے وقت اپنے قلیل اور بے حقیقت فوائد کو بالکل نظر انداز کردیں کہ وہ روپیہ کی گنتی میں خواہ کروڑوں ہندسوں سے بھی اوپر نکل جائیں۔لیکن اخلاق و روحانیت کے لحاظ سے ایک آدمی کی آزادی کے برابر بھی ان کی قیمت نہیں ہے۔اگر آپ لوگ انصاف سے کام نیں گے تو خواہ آپ کے بعض ابنائے وطن اس وقت آپ کو گالیاں دیں اور غدار کہیں لیکن ایک دن آئے گا کہ آپ کی اپنی ہی نسلیں نہیں بلکہ تمام دنیا کے لوگ آپ کے نام کو عزت سے لیں گے اور آپ کی یاد کے وقت ادب سے وگوں کی گردنیں جھک جائیں گی اور آپ کا ذکر ہمیشہ کیلئے با برکت ہو جائے گا۔( صفحہ ۳) اہل ہندوستان کے دلوں میں امنگ و عزم پیدا کرتے ہوئے اور دلوں کی کدورت اور بغض اور دور کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا :۔اسی طرح میں اپنے اہل وطن سے کہتا ہوں کہ اس نازک موقع پر اپنے دلوں کو تعصب اور کینہ سے خالی کر دو کہ یہ جذبات بظاہر میٹھے معلوم ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں ان سے زیادہ تلخ اور تکلیف دہ کوئی چیز نہیں۔واقعات بتا رہے ہیں کہ ہندوستان کی آزادی کا وقت آگیا ہے۔خدا تعالیٰ نوں میں ایک نئی روح پھونک رہا ہے۔تاریکی کے بادلوں کے پیچھے سے امید کی بجلی بار بار کوند رہی ہے۔خواہ ہر آنے والی ساعت کی تاریکی پہلی تاریکی کی نسبت کس قدر ہی زیادہ کیوں نہ ہو ہر بعد میں ظاہر ہونے والی روشنی بھی