سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 226 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 226

۲۲۶ متعلق آپ کے بصیرت افروز خطبات اور تقاریر کی تعداد سینکڑوں سے متجاوز ہے ، آپ کی سیاس قرآن کی لازوال صداقتوں اور اصولوں کی روشنی سے منور تھی اور اس میں کسی ذاتی غرض لالچ اور مفاد کا شائبہ تک نہ تھا۔آپ کی سیاست محض خدمت خلق اور اسلامی مفاد کے تحفظ کی خاطر تھی۔آپ کا یہ طریق کار آپ کو دنیا بھر کے سیاسی لیڈروں اور دانشوروں سے ممتاز کر کے ایک الگ نمایاں مقام پر فائز کر دیتا ہے۔سیاسی مسائل کے متعلق آپ کی تصانیف اور خطبات کا خلاصہ اور پس منظر ایک مستقل کتاب کا متقاضی ہے۔اختصار کے پیش نظر اس جگہ حضور کی ایک کتاب ”ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئله کامل " (۱۹۳۰ء) کا ذکر کیا جاتا ہے۔بر صغیر کی تاریخ کے نہایت پُر آشوب زمانہ ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کاحل میں جب کہ انگریز کسی بھی قیمت پر ہندوستان کو آزاد کرنے پر تیار نہ تھا اور ہندو آزادی کا مطلب مسلمانوں کو ہمیشہ اپنے زیر نگین رکھنا سمجھتے تھے۔مسلمان بے نظمی اور صحیح قیادت کے فقدان کی وجہ سے اپنا نصب العین ہی متعین نہ کر پائے تھے۔ان حالات میں حضرت فضل عمر نے ”ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسئلہ کا حل " کے عنوان سے ایک مدلل و مبسوط کتاب تصنیف فرمائی جس میں اس زمانے کی تمام الجھنوں اور مشکلات کا قابل عمل اور مبنی بر انصاف حل پیش فرمایا۔اس کتاب کی وجہ تصنیف بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:۔میں سمجھتا ہوں کہ گو ایک مذہبی آدمی ہونے کے لحاظ سے مجھے سیاست ملکی سے اس قدر تعلق نہیں ہے جیسا کہ ان لوگوں کو جو رات دن انہی کاموں میں پڑے رہتے ہیں لیکن اس قدر میری ذمہ داری صلح اور آشتی پیدا کرنے کے متعلق زیادہ ہے۔اور نیز میں خیال کرتا ہوں کہ شورش کی دنیا سے علیحدہ ہونے کی وجہ سے میں شاید کئی امور کی تہہ کو زیادہ آسانی سے پہنچ سکتا ہوں یہ نسبت ان لوگوں کے کہ جو اس جنگ میں ایک یا دوسری طرف سے شامل ہیں۔پس اس وقت جب کہ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کے اعلان کی وجہ سے لوگوں کی توجہات مسئلہ ہندوستان کے حل کرنے میں لگی ہوئی ہیں میں بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ اپنے خیالات دونوں ملکوں کے غیر متعصب لوگوں کے سامنے رکھ دوں۔"