سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 214 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 214

۲۱ دیکھا ہے اس سال کی تحریک کے ماتحت سینکڑوں نہیں ہزاروں دکانیں نکلیں ہم نے جو کچھ کہا وہ صرف یہ ہے کہ ہندو جو چیزیں مسلمانوں سے نہیں خریدتے وہ مسلمان بھی ہندوؤں کی بجائے مسلمانوں سے خریدیں اور مسلمان اپنی دکانیں نکالیں تاکہ تجارت کا کام بالکل ان کے ہاتھ سے نہ چلا جائے۔( تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۲۷ء) اس سادہ مگر نہایت موثر و مفید ہدایت کے نتائج کا ذکر کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں:۔نتیجہ یہ ہوا کہ دو تین مہینہ میں احمدیوں کی کئی دکانیں کھل گئیں اور اس وقت سے ترقی کرتے کرتے آج یہ حالت ہے کہ قادیان کی تجارت اسی فیصدی احمدیوں کے ہاتھ میں ہے۔۔۔۔حالا نکہ اس وقت ایک فیصدی تجارت بھی احمدیوں کے ہاتھ میں نہ۔۔۔۔اور قادیان کی ترقی جتنی سرعت کے ساتھ اس کے بعد ہوئی اتنی سرعت سے پہلے نہیں ہوئی تھی۔یہ سب مشکلات موجود تھیں۔یعنی ایسی قوم سے مقابلہ تھا جس کے ہاتھ میں سینکڑوں سال سے تجارت چلی آرہی تھی پھر مقابلہ تھا ان ساہوکاروں سے جن کے قبضہ میں زمینداروں کی گردنیں تھیں۔" خطبه جمعه فرموده ۶ - دسمبر ۱۹۳۵ء) ہر حال میں قومی مفاد مد نظر رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:۔” ہماری جماعت کے دوستوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ ان کے وجود سے سلسلہ کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے۔سلسلہ تم سے سارا مال نہیں مانگتا لیکن تم سے یہ خواہش ضرور کرتا ہے کہ تم اپنے مالوں اور پیشوں میں ایسے طور پر ترقی کرو کہ اس سے سلسلہ کو فائدہ پہنچے مثلاً ایک تاجر اگر سلسلہ کو فائدہ پہنچانے کی خواہش رکھتا ہے تو وہ ایسا کر سکتا ہے کہ وہ کسی احمدی کو اپنے ساتھ ملا کر تجارت کا کام سکھا دے جب وہ کام سیکھ جائے گا تو وہ دوسری جگہ اپنا کام چلا سکے گا اس طرح کام کرنے سے جماعت کو بہت تقویت پہنچے گی۔ہماری جماعت تو نہ ہی جماعت ہے اس میں قومی جذ بہ زیادہ شدت کے ساتھ موجود ہونا چاہئے۔ہماری جماعت کو انفرادیت کی روح کچل دینی چاہئے اور ہر شخص کو یہ سمجھنا چاہئے کہ میں ایک بیج ہوں جو اپنی قوم کے مفاد کے لئے زمین میں دفن ہو کر اچھے نتائج پیدا کروں گا۔" خطبہ جمعہ ۷۔مارچ ۱۹۴۷ء)