سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 215
۲۱۵ ہماری جماعت میں ایسی بہت سی مثالیں ہیں کہ متعد د احمدیوں نے اپنے عظیم رہنما اور قائد کی اس انتہائی مفید سکیم کی روشنی میں بعض ایسے کاروبار شروع کئے جن پر اس سے پہلے ہندوؤں کی مکمل اجارہ داری تھی اور ہندوستان بھر میں کوئی مسلمان اس کام میں شامل ہونے کی جرات تک نہ کر سکتا تھا۔متحدہ پنجاب کے رہنے والوں کو آج بھی ملائی برف والا کی آوا زیاد ہو گی جو بچوں کو راغب کرنے کے لئے ہندو اپنے مخصوص انداز میں لگایا کرتے تھے اور اپنی لکڑی کی ٹرے میں آئس کریم لئے گھوم رہے ہوتے جسے وہ چُھری سے کاٹ کر پتوں پر رکھ کر دیا کرتے تھے۔سوڈا واٹر اور مٹھائی اور ہر قسم کی اشیاء خوردنوش کا کاروبار بھی مسلمانوں کے لئے شجرہ ممنوعہ ہی تھا اور اس میں کسی مسلمان کی کامیابی ناممکن تھی کیونکہ چھوت چھات کی انتہائی ظالمانہ اور غیر انسانی ہندوانہ رسم کی وجہ سے کسی غیر ہندو کی بنائی ہوئی مٹھائی کے ہندو قریب تک نہ جاتا تھا۔اس طرز عمل میں بھی ان کی وہی گھناؤنی سازش کار فرما تھی کہ اس طرح اپنی اقتصادی برتری اور اجارہ داری کو رکھتے ہوئے مسلمانوں کو ہمیشہ کے لئے معاشی بد حالی اور اقتصادی غلامی میں مبتلاء رکھا جائے۔پاکستان دشمن یا زیادہ صحیح لفظوں میں ہندو اور ہندو نواز قوموں کو قیام پاکستان کا منصوبہ ایک آنکھ نہ بھاتا تھا بلکہ وہ اسے اپنے مخصوص فوائد کے حصول میں روک سمجھتے تھے اور تقسیم ملک کو گئو ماتا کی ہتیا " قرار دیتے تھے مگر قائد اعظم کے خلوص ، اصول پسندی اور محنت اور صحیح منصوبہ بندی کے سامنے سب دشمنوں کو گھٹنے ٹیکنے پڑے مگر وہ دو اور دو چار کی طرح اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ پاکستان کا منصوبہ اقتصادی مشکلات کی وجہ سے ناکام ہو جائے گا اور ہمیں یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ ہم تو پہلے ہی تمہیں سمجھا رہے تھے کہ ایسی غلطی نہ کرو "پاکستان" قابل عمل نہیں ہے۔یہ کوئی فرضی بات نہیں بلکہ ہندوؤں اور انگریزوں کے ایسے بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں مگر حضور کی اس تحریک پر عمل کرنے کی برکت سے وہ مسلمان جو صنعت اور تجارت وغیرہ میں آگے آئے انہوں نے نوازائیدہ مملکت پاکستان کو سہارا دیا اور دشمنوں کے تمام تخمینے اور اندازے دھرے کے دھرے رہ گئے۔اور یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے مذکورہ تحریک پر لبیک کہتے ہوئے تجارت و صنعت کی طرف توجہ دی انہوں نے پاکستان کی بنیاد کو مضبوط کیا اور پاکستان کو خوفناک ابتدائی مشکلات (Teething Problems) سے بچانے میں مدد کی اور اس طرح مملکت پاکستان کے معرض وجود میں آتے ہی ہندو سرمائے اور تجربے کے خلا کی وجہ سے جو بھیانک صورت حال پیدا ہو سکتی تھی اس کی کافی حد تک تلافی ہو گئی۔