سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 213
٢١٣ " مسلمانوں میں کئی لوگ لاکھوں اور ہزاروں کی جائیدادیں رکھنے والے ہیں مگر باوجود اس کے ہندوؤں کے مقروض ہیں۔پس جب کہ مسلمانوں کی حالت یہاں تک پہنچ گئی اور ہندو چھوت چھات کی وجہ سے اپنی برتری جتلا کر نا واقف اور جاہل مسلمانوں کو مرتد کر رہے ہیں تو ضروری ہے کہ مسلمان اس طرف متوجہ ہوں۔پس میں دوستوں سے امید کرتا ہوں کہ وہ اس تحریک کو خصوصیت سے جاری رکھیں گے اور ہر جگہ ہر مسلمان کے دل میں یہ بات ڈال دیں گے کہ اس تحریک پر عمل کرنے سے تمہارا ہی فائدہ ہے۔ہماری جماعت میں تو تاجر پیشہ لوگ بہت کم ہیں۔زمیندار اور ملازمت پیشہ زیادہ ہیں۔اس وجہ سے چھوت چھات کی تحریک کے کامیاب ہونے پر دوسرے مسلمانوں کو ہی فائدہ ہو گا۔کم از کم تین چار کروڑ روپیہ سالانہ مسلمانوں کا اس تحریک پر عمل کرنے سے بچ سکتا ہے اور مسلمانوں جیسی کنگال قوم کے لئے اتار و پیہ بچنا بہت بڑی بات ہے۔میں نے عورتوں کو بتایا تھا کہ یہاں قادیان میں مسلمان مٹھائی والا کوئی نہ تھا اس لئے ہم نے مٹھائی خرید نا بند کر دیا اور سات سال تک یہ بندش مر ہی یہ بتا کر میں نے ان کو یقین دلایا کہ اتنے عرصہ میں کوئی ایک آدمی بھی مٹھائی نہ خریدنے کی وجہ سے نہ مرا۔نہ ہمارے بچوں کی صحت کو اور نہ ہماری صحت کو کوئی نقصان پہنچا بلکہ فائدہ ہی ہوا کہ پیسے بیچ گئے۔میں سمجھ نہیں سکتا کھانے پینے کی چیزیں غیر مسلموں سے نہ خریدنے میں کونسی مصیبت آجاتی ہے۔پوری کچوری نہ کھائی روٹی کھائی۔کیا ہندوؤں کی بنائی ہوئی کچوری میں اتنا مزا ہے کہ بے شک دین جائے ، غیرت جائے مگر پوری کچوری نہ جائے۔میں اپنی جماعت کے لوگوں کو خصوصیت سے یہ تحریک کرتا ہوں کہ ہندوؤں کی چھوٹی ہوئی چیزیں اس وقت تک نہ کھانی چاہئیں جب تک ہندو بھی علی الاعلان عام مجلسوں میں مسلمانو) کے ہاتھوں سے لیکر وہ چیزیں نہ کھائیں اس طرح ایک لاکھ مسلمانوں کے لئے کاروبار نکل آئے گا اور اتنے خاندان پل سکیں گے۔" اسی طرح آپ نے فرمایا:۔( تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۲۷ء) ایک اور بات جو اس سال کے پروگرام میں رکھنی چاہئے وہ مسلمانوں کا آپس میں تعاون ہے۔جہاں مسلمان سودا بیچنے والے ہوں وہاں ان سے خریدا جائے میں نے