سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 207
۲۰۷ ہیں:۔بغیر کسی سے سمجھوتہ کرنے کے حکومت کر سکیں گے اور جالندھر میں کچھ سکھ یا مسلمانوں کو ملا کر حکومت کر سکیں گے۔" سکھوں کو ایک مفید اور مخلصانہ مشورہ دیتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:۔" میں سمجھتا ہوں کہ میں نے کافی روشنی ان خطرات پر ڈال دی ہے۔جو سکھوں کو پیش آنے والے ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ ۲۳۔جون کی ہونے والی اسمبلی کی میٹنگ میں وہ ان امور کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کریں گے۔اس طرح میں سمجھتا ہوں کہ چونکہ سب سے زیادہ اثر عام سکھوں پر پڑنے والا ہے۔وہ بھی اپنے لیڈروں پر زور دیں گے کہ اس خود کشی کی پالیسی سے ان کو بچایا جائے۔” میں لکھ چکا ہوں کہ میں بوجہ ایک چھوٹی سی جماعت کے امام ہونے کے کوئی سیاسی غرض ان مشوروں میں نہیں رکھتا اس لئے سکھ صاحبان کو سمجھ لینا چاہئے کہ میرا مشورہ بالکل مخلصانہ اور ان کی ہمدردی کی وجہ سے ہے۔اگر سیاست میرے اختیار میں ہوتی تو میں انہیں ایسے حقوق دے کر جن سے ان کی تسلی ہو جاتی انہیں اس نقصان سے بچا تا مگر سیاست کی طاقت میرے ہاتھ میں نہیں اس لئے صرف میں نیک مشورہ ہی دے سکتا ہوں۔ہاں مجھے امید ہے کہ اگر سکھ صاحبان مسٹر جناح سے بات کریں تو یقیناً انہیں سکھوں کا خیر خواہ پائیں گے۔مگر انہیں بات کرتے وقت یہ ضرور مد نظر رکھ لینا چاہئے کہ ہند و صاحبان انہیں کیا کچھ دینے کو تیار ہیں کیونکہ خود کچھ نہ دینا اور دوسروں سے لینے کے مشورے دینا کوئی بڑی بات نہیں۔اس میں مشورے دینے والے کا کچھ حرج نہیں ہو گا۔پس اچھی طرح اونچ نیچ کو دیکھ کر وہ اگر مسلم لیگی لیڈروں سے ملیں تو مجھے امید ہے کہ مسلم لیگ کے لیڈر انہیں نا امید نہیں کریں گے۔اگر مجھ سے بھی اس بارے میں کوئی خدمت ہو سکے تو مجھے اس سے بے انتہاء خوشی ہوگی۔" اپنے اس ہمدردانہ تجزیہ کے آخر میں ایک نہایت مفید نصیحت کرتے ہوئے آپ فرماتے "آخر میں میں سکھ صاحبان کو مشورہ دیتا ہوں کہ سب کاموں کی کنجی خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔وہ گرونانک دیو جی اور دوسرے گروؤں کے طریق کو دیکھیں وہ ہر