سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 206 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 206

۲۰۶ تجارتوں کو بند کریں گے تو نئی جگہ کا پیدا کرنا ان کے لئے آسان نہ ہو گا اور اگر وہ اپنی جگہ پر رہیں گے تو اس حصہ ملک میں ان کی آبادی کے کم ہو جانے کی وجہ سے وہ اس سیاسی اثر سے محروم ہو جائیں گے جو اب ان کی تائید میں ہے اور پھر اگر انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنے پہلے علاقے میں ہی رہیں تو آہستہ آہستہ ان کی ہمدردی اپنے مشرقی بھائیوں سے کم ہو جائے گی اور سکھ انجمنیں ان کی امداد سے محروم رہ جائیں گی۔اگر مغربی پنجاب نے مشرقی پنجاب کی ڈگریوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تو وہ اٹھارہ لاکھ سکھ جو مغربی پنجاب میں بستے ہیں ایک بڑا کالج مغربی پنجاب میں بنانے پر مجبور ہونگے اور چونکہ بڑے زمیندار اور بڑے تاجر سکھ مغربی پنجاب میں ہیں ان کے لئے ایک بہت بڑا کالج بنانا مشکل نہ ہو گا۔اس طرح خالصہ کالج امرتسر بھی اپنا نشان کھو بیٹھے گا اور سکھوں کے اندر دو متوازی سکول اقتصادی اور سیاسی اور تمدنی فلسفوں کے پیدا ہو جائیں گے۔بے شک ساری قوموں کو ہی اس ہوارہ سے نقصان پہنچے گا لیکن چونکہ ہندوؤں کی اکثریت ایک جگہ اور مسلمانوں کی اکثریت ایک جگہ جمع ہو جائے گی انہیں یہ نقصان نہ پہنچے گا۔یہ نقصان صرف سکھوں کو پہنچے گا جو قریباً برابر تعداد میں دونوں علاقوں میں بٹ جائیں گے اور دونوں ہی سے کوئی حصہ اپنی بڑائی کو دوسرے پر قربان کرنے کیلئے تیار نہ ہو گا۔بعض سکھ صاحبان یہ کہتے سنے جاتے ہیں کہ جالندھر ڈویژن کی ایک سکھ ریاست بنا دی جائے گی۔بے شک اس صورت میں سکھوں کی آبادی کی نسبت اس علاقے میں بڑھ جائے گی مگر اس صورت میں بھی مختلف قوموں کی نسبت آبادی یوں ہو گی۔۲۵۶۶۰ سکھ۔۳۴۶۵۰ مسلمان اور قریباً ۴۰ فیصد ہندو۔اس صورت حال میں بھی سکھوں کو زیادہ فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔پرانے پنجاب میں بھی تو سکھوں کو ۲۲ فیصدی نمائندگی ملی۔پس اگر جالندھر ڈویژن کا الگ صوبہ ہی بنا دیا گیا تو اس سے ہندوؤں اور مسلمانوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچے گا کیونکہ انبالہ ڈویژن کے الگ ہو جانے کی وجہ سے انبالہ صوبہ پر گلی طور پر ہندوؤں کا قبضہ ہو جائے گا اور جالندھر ڈویژن میں بوجہ ۴۰ فیصدی رہ جانے کے سکھ ان سے اپنے لئے زیادہ نمائندگی کا مطالبہ نہیں کر سکیں گے اور توازن بہت مضبوطی سے ہندوؤں کے ہاتھ میں چلا جائے گا اور وہ انبالہ کے صوبے میں