سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 208
۲۰۸ مشکل کے وقت اللہ تعالٰی سے دعائیں کیا کرتے تھے۔اس وقت ان کو بھی اپنی عقل پر سارا انحصار رکھنے کی بجائے خدا تعالیٰ سے دعائیں کرنی چاہئیں۔اللہ تعالیٰ انہیں وہ راستہ دکھاوے جس میں ان کی قوم کی بھی بھلائی ہو اور دوسری قوموں کی بھی بھلائی ہو یہ دن گزر جائیں گے یہ باتیں بھول جائیں گی لیکن محبت اور پریم کے کئے ہوئے کام کبھی نہیں بھولیں گے۔اگر ہوارہ بھی ہونا ہے تو وہ بھی اس طرح ہونا چاہئے کہ ایک قوم کا گاؤں دوسری قوم کے گاؤں میں اس طرح نہ گھسا ہوا ہو کہ جس طرح دو کنگھیوں کے دندانے ملا دیئے جاتے ہیں۔اگر ایسا ہوا تو سرحد میں چھاؤنیاں بن جائیں گی اور سینکڑوں میل کے بسنے والے لوگ قیدیوں کی طرح ہی ہو جائیں گے اور علاقے اُجڑ جائیں گے۔”یہ میری نصیحت سکھوں کو ہی نہیں مسلمانوں کو بھی ہے۔میرے نزدیک تحصیلوں کو تقسیم کا یونٹ تسلیم کر لینے سے اس فتنہ کا ازالہ ہو سکتا ہے۔اگر اس سے چھوٹا یونٹ بنایا گیا تو جتنا جتنا چھوٹا ہوتا چلا جائے گا اتنا اتنا نقصان زیادہ ہو گا۔ایک عرب شاعر اپنی معشوقہ کو مخاطب کر کے کہتا ہے۔فَإِنْ كُنْتِ قَدْ اَزْمَعْتِ صَوْمًا فَاجْمَلِي یعنی اے میری محبوبہ ! اگر تو نے جُدا ہونے کا فیصلہ ہی کر لیا ہے تو کسی پسندیدہ طریق سے جدا ہو۔میں بھی ہندو مسلمان ، سکھ سے کہتا ہوں کہ اگر جدا ہو نا ہی ہے تو اس طرح جدا ہوں کہ سرحدوں کے لاکھوں غریب باشندے ایک لمبی مصیبت میں مبتلاء نہ ہو جائیں"۔(الفضل ۱۹۔جون ۱۹۴۷ء) یہ مفصل بیان اس غرض سے یہاں پر دیا گیا ہے کہ اس سے صرف سکھ مسئلہ پر ہی روشنی نہیں پڑتی بلکہ حضور کے کسی مسئلہ کو پوری طرح سمجھنے اور اس کے تمام پہلوؤں پر حاوی ہونے اور پھر اسے سادہ اور موثر طریق پر پیش کرنے کا انداز سامنے آتا ہے۔حضور کی ژرف نگاہی اور فراست کا یہ کیسا روشن پہلو ہے کہ آپ نے سکھوں کے ان مسائل کی طرف پوری ہمدردی و خلوص سے بڑے موثر طریق پر توجہ دلانے کے ساتھ ساتھ انہیں متنبہ کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ :۔