سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 163
بلکہ ہمارے کچھ اور بھائی بھی ہماری پشت پر ہیں۔یہ انسانی فطرت ہے کہ جب تک انسان یہ سمجھتا ہے کہ کچھ لوگ اس کے مقابلہ کو دیکھ رہے ہیں تو وہ زیادہ جوش کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے لیکن جب وہ دیکھتا ہے کہ میں اکیلا ہوں اور مجھے کوئی دیکھ نہیں رہا تو اس کے جوش میں کمی آجاتی ہے۔پس اگر انڈونیشیا کے لوگوں کے کانوں میں یہ آواز پڑتی رہے کہ ہم تمہاری ہر قسم کی امداد کریں گے اور جہاں تک ممکن ہو گا ہم تمہارے لئے قربانی کریں گے اس آزادی کی جنگ میں آپ لوگ اکیلے نہیں لڑ رہے بلکہ ہم بھی آپ لوگوں کے ساتھ ہیں اور پھر جہاں تک ممکن ہو دنیا کے مسلمان اپنے ان مصیبت زدہ بھائیوں کی مدد کی کوشش کریں تو وہ اپنی آزادی کے لئے بہت زیادہ جد وجہد کریں گے اور امید کی جاسکتی ہے کہ ان کو جلد آزادی مل جائے۔" اس وقت تمہارا عارضی صلح کر لینا تمہاری طاقت کو ضائع ہونے سے بچالے گا۔فرض کرو اگر اس وقت ڈچ انڈو نیشیا کو چھوڑ کر چلے جائیں تو انڈو نیشیا میں اپنی طاقت نہیں کہ وہ بیرونی طاقتوں کا مقابلہ کر سکے اور یہ بات قرین قیاس بلکہ صاف طور پر نظر آتی ہے کہ دوسری مغربی قومیں انڈونیشیا میں دخل اندازی شروع کر دیں گی اور خصوصاً روس کی نظریں تو ہر وقت انڈو نیشیا کی طرف لگی رہتی ہیں کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ برطانیہ اور امریکہ نے چینی سمندر کے بعض اڈوں پر قبضہ کر لیا ہے اور وہ ان سمندروں میں اپنا اثر و نفوذ پیدا کر رہے ہیں۔روس یہ چاہتا ہے کہ سماٹرا جاوا پر میرا قبضہ ہو جائے اور اس طرح سے امریکہ اور برطانیہ کے اثر و نفوذ کو کم کر دوں اور ان کا مقابلہ کر کے ان سمندروں پر اپنا قبضہ جما سکوں۔ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے ان کے مناسب حال یہ مشورہ دیا تھا کہ ہالینڈ والوں سے زیادہ سے زیادہ جتنی آزادی تمہیں مل سکتی ہے وہ لے لو اور پھر اپنی بری اور بحری طاقت کو بڑھانے کی کوشش کرو۔پھر جب یہ طاقت تمہارے ہاتھوں میں آجائے گی تو پچاس ساٹھ لاکھ کی آبادی کے ملک کی طاقت کیا ہے کہ وہ سات کروڑ انسانوں پر حکومت کر سکے۔میں سمجھتا ہوں کہ ایشیا کے مسلمانوں کا سیاسی مستقبل جاد ا سماٹرا کے مسلمانوں سے وابستہ ہے کیونکہ آج کسی ملک میں اتنی تعداد میں مسلمان متحد نہیں جتنی تعداد میں انڈونیشیا میں متحد ہیں اور دوسرے جو اہمیت ان جزائر کو بوجہ جزائر ہونے کے حاصل ہے وہ اور کسی ملک کو حاصل نہیں۔بڑا جزیرہ ہونا بہت بڑی