سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 162
۱۶۲ سات جزائر ایشیائی ممالک کے لئے بہت اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ ایشیائی ممالک کی کنجی سنگا پور ہے اور وہ بھی ان جزائر سے علیحدہ نہیں رہ سکتا کیونکہ وہ نسل اور زبان کے لحاظ سے ان کا جزو ہے اور جس قوم کے ہاتھ میں سنگا پور ہو گا اگر وہ مضبوط ہو گا تو دوسرے ممالک لازمی طور پر اس سے صلح رکھنے پر مجبور ہو نگے۔سماٹرا جاوا میں یہ تحریک چل رہی ہے اگر وہ کامیاب ہو جائے تو بعید نہیں کہ ملایا بھی ان کے ساتھ مل جائے۔اگر ان جزائر کو آزادی مل جائے تو یہ جزائر اسلامی تعلیم کو پھیلانے اور اسلامی عظمت کو قائم کرنے میں بہت بڑا ذریعہ بن سکتے ہیں لیکن افسوس ہے کہ باقی اسلامی ممالک نے ان جزائر کی تائید میں بہت کم آواز اٹھائی ہے۔اور ان جزائر کی ہمدردی میں بہت کم حصہ لیا ہے۔یہی ایک خطہ ہے جہاں پر مسلمانوں کی اکثریت ہے اور ان میں اتحاد ہے۔ان کی آواز ایک ہے مسلمانوں کو ایسے علاقہ کی امداد کے لئے ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے اور ان کی آزادی کا ڈچ حکومت سے مطالبہ کرنا چاہئے۔اگر ان کو آزادی مل جائے تو ان کی آزادی سے باقی ممالک کو بھی بہت سے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں کیونکہ ساری دنیا میں صرف انڈو نیشیا ایک ایسا علاقہ ہے جس میں چھ سات کروڑ مسلمان ایک زبان بولنے والے اور ایک قوم کے بسنے والے ہیں اور جن کے علاقہ میں غیر لوگ نہ ہونے کے برابر ہیں اور جن میں اتحاد کی روح اس وقت زور سے بیدار ہو رہی ہے۔دنیا بھر میں اور کوئی علاقہ اسلامی مرکز ہونے کی اس قدر اہلیت نہیں رکھتا۔پس اس وقت اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ اخباروں میں ، رسالوں میں اپنے اجتماعوں میں مسلمان اپنے بھائیوں کے حق میں آواز اٹھائیں اور ان کی آزادی کا مطالبہ کریں۔اگر اب ان کی امداد نہ کی گئی اور اگر اب ان کی حمایت نہ کی گئی تو مجھے خدشہ ہے کہ ڈچ ان کی آواز کو بالکل دبا دیں گے۔وہ اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہے ہیں کہ آہستہ آہستہ انڈونیشیا کے شور پر قابو پالیں اور اس کوشش میں وہ بہت حد تک کامیاب بھی ہو گئے ہیں۔اور دنیا کی نظریں اب انڈونیشیا سے ہٹ گئی ہیں اور انڈونیشیا کے لوگ بھی یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ اب ہم اکیلے رہ گئے ہیں۔لیکن اگر دنیا میں ان کی حمایت میں اور ان کی تائید میں آوازیں بلند ہوں ایک شور برپا ہو جائے تو وہ دلیری اور بہادری سے مقابلہ کریں گے کیونکہ وہ سمجھیں گے کہ ہم اکیلے نہیں لڑ رہے