سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 164
145 طاقت کا موجب ہوتا ہے بوجہ سمندری راستوں کے وہ دوسرے ملکوں سے زیادہ تعلق پیدا کر سکتا ہے اور اسے بڑی حد تک قدرتی حفاظت کے سامان ملے ہوئے ہیں۔علاوہ از میں باقی ممالک میں سے کوئی ملک بھی ایسا نہیں جس پر مسلمانوں کو اکثریت حاصل ہو جس کی وجہ سے اس کی غیر ملکی آواز مسلمانوں کے حق میں مفید ہو سکے۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں چین اور ہندوستان کے مسلمان اپنے اپنے ملک میں اقلیت میں ہیں اس لئے باوجود تعداد میں انڈونیشیا کے مسلمانوں سے زیادہ ہونے کے ان کی آواز نہ ملک کے انتظام میں اور نہ غیر ملکی تعلقات میں کوئی خاص اثر پیدا کر سکتی ہے۔ایران اور افغانستان چھوٹے چھوٹے ملک ہیں اور تعلیم میں اتنے پیچھے ہیں کہ ان کی آواز کسی کو اپنی طرف متوجہ نہیں کر سکتی۔نیز نیشنل و ہلتھ (National Wealth) ان کی زیادہ نہیں ہے لیکن جاوا سماٹرا کو وہ ذرائع حاصل ہیں۔گو قوم چھوٹی ہے اور مختلف جزائر میں بٹی ہوئی ہے لیکن سب جزائر پاس پاس ہیں اور بعض جزائر تو اتنے بڑے ہیں کہ اس علاقہ کی آبادی آسانی سے چودہ پندرہ کروڑ تک بڑھائی جاسکتی ہے"۔" پھر سب ایک مقصد کے لئے متحد ہیں اور اپنے اندر تفرقہ اور انشقاق کو کسی صورت میں جگہ دینے کو تیار نہیں۔ہالینڈ والوں نے انتہائی کوشش کی ہے کہ انڈونیشیا کے لوگ اتفاق کو چھوڑ دیں اور پراگندہ ہو جائیں لیکن وہ اس کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکے۔اگر سماٹرا جاوا والوں کو آزادی مل جائے تو ارد گرد کے چھوٹے جزیرے بھی ان کا اثر ماننے کے لئے بہت جلد تیار ہو جائیں گے۔اب بھی یہ حالت ہے کہ انڈونیشیا میں ہی جب بعض جزائر میں جاتے ہیں تو لوگ ان کے ساتھ مل کر بغاوت کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اور ڈچ اثر کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔اگر جاو اسماٹرا والوں کو آزادی مل جائے تو یہ یقینی بات نظر آ رہی ہے کہ باقی جزائر والے مسلمان بھی ان سے مل جائیں گے۔" اس پس منظر اور ان علاقوں کی آزادی کی اہمیت بیان کرنے کے بعد حضور ان امور کی طرف رہنمائی فرماتے ہیں جو ان علاقوں کی آزادی کے حصول میں مفید اور مؤثر ہو سکتے ہیں۔جاوا سماٹرا والوں کو آزادی دلانے کیلئے سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ دوسرے ملکوں کے مسلمان ان کی آزادی کیلئے آواز اٹھائیں۔مجھے امید ہے کہ اگر یہ ملک آزاد "