سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 8
A کالج تھا) میں زراعت کی خصوصی تربیت دلوائی تا وہ جماعت کی زرعی ترقی میں مفید کردار ادا حضور کی ایک اور تصنیف ” اسلام اور ملکیت زمین " بہت مفید مشوروں کر سکیں۔اس مو وضوع پر اور رہنمائی پر مشتمل ہے۔تجارت کے شعبہ کی طرف بھی آپ نے خصوصی توجہ فرمائی اور تاجروں کو مختلف مواقع پر اسلامی اخلاق اور تجارت میں بہتری و ترقی کے راہنما اصول بتائے۔اس زمانے میں تجارت پر ہندوؤں کی اجارہ داری تھی اور کسی مسلمان کے لئے ممکن نہ تھا کہ وہ برابر کی سطح پر ان سے بات کر سکے کیونکہ مسلمان بالعموم ہندوؤں کے مقروض تھے مگر حضور نے مسلمانوں میں ایک ایسی رو چلا دی اور ایسی جرات پیدا کر دی کہ دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں دُکانیں مسلمانوں کی کھل گئیں اور اس طرح وہ سرمایہ جو مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل کر ہندوؤں کی طاقت و قوت کا ذریعہ بن رہا تھا اس کا رستہ روک دیا اور مسلمانوں کو وہ راستہ دکھا دیا جس پر چل کر وہ ہندوؤں کی اقتصادی و معاشی غلامی سے نجات حاصل کر سکیں۔قادیان کی ہمہ جہتی ترقی میں صنعتی ترقی کا پہلو بھی بہت نمایاں ہے۔حضرت فضل عمر نے نوجوانوں میں بے کاری کے خلاف جو جذبہ پیدا فرمایا تھا اس کے نتیجہ میں صنعت و حرفت کو بھی بہت ترقی ہوئی۔حضور نے خود اپنی نگرانی میں دار الصناعہ کا قیام فرمایا اور اپنے ہاتھ سے لکڑی کاٹ کر ۲۔مارچ ۱۹۳۵ء کو اس کا افتتاح فرمایا۔حضور کے عملی نمونہ اور دلچسپی کی وجہ سے قادیان میں جلد جلد صنعتی ترقی شروع ہو گئی اور متعدد کار خانے مثلاً سٹار ہوزری در کس ، میک ورکس ، اکبر علی اینڈ سنز، جنرل سروس پریسین مینوفیکچرنگ کمپنی ، شیشہ سازی کا کارخانہ آٹا پینے کی متعدد مشینیں ، سوڈا واٹر فیکٹریاں قائم ہو گئیں اور اس طرح قادیان سے بے کاری کی لعنت کا خاتمہ ہونے کے ساتھ ساتھ علاقہ میں بھی اچھا اثر ہوا اور دُور دراز دیہات کے مسلم و غیر مسلم نوجوانوں کو وہاں ملازمت ملنے لگی اور قادیان کی بعض مصنوعات اپنے اعلیٰ معیار کی وجہ سے ہندوستان کے بڑے بڑے شہروں میں مقبول ہو گئیں۔قادیان کی غیر معمولی ترقی کا کسی قدر اندازہ اس امر سے بھی ہو سکتا ہے کہ ہمارے مخالف بھی ( بادل نخواستہ) اس کا اعتراف کرنے پر مجبور تھے۔چنانچہ ایک موقع پر جب ایک ہندو لیڈر نے مسلمانوں کی پنجاب میں اکثریت کو بے حقیقت اور بے اثر ثابت کرنے کے لئے مسلمانوں کو جاہل