سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 9 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 9

اور پسماندہ قرار دیا تو اس کے جواب میں اس زمانہ کے مشہور مسلم اخبار ” خلافت " نے جو اداریہ لکھا اس میں اور باتوں کے علاوہ یہ بھی لکھا کہ :۔اگر قادیان جیسے قصبہ کا ٹانگہ والا خالصہ اور دیانند کالج کے گریجوئیٹوں کا منہ بند نہ کر دے تو ہمار ازمہ۔پھر مسلمان کبھی آزادی طلب نہ کریں گے ؟ et (الفضل ۱۵ دسمبر ۱۹۳۲ء) مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ قادیان کی ابتدائی حالت اور پھر خلافت ثانیہ میں اس کی ترقی کے متعلق حضور کے ارشادات سے استفادہ کیا جائے۔قادیان کی ترقی کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا نشان قرار دیتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔" حضرت اقدس کو بتایا گیا کہ قادیان کا گاؤں ترقی کرتے کرتے ایک بہت بڑا شہر ہو جائے گا جیسے کہ بمبئی اور کلکتہ کے شہر ہیں۔گویا نو دس لاکھ کی آبادی تک پہنچ جائے گا اور اس کی آبادی شمالاً اور شرقاً پھیلتے ہوئے بیاس تک پہنچ جائے گی جو قادیان سے نومیل کے فاصلے پر بننے والے ایک دریا کا نام ہے۔یہ پیشگوئی جب شائع ہوئی ہے۔اس وقت قادیان کی حالت یہ تھی کہ اس کی آبادی دو ہزار کے قریب تھی، سوائے چند ایک پختہ مکانات کے باقی سب مکانات کچھے تھے۔مکانوں کا کرایہ اتنا گرا ہوا تھا کہ چار پانچ آنے ماہوار پر مکان کرایہ پر مل جاتا تھا۔مکانوں کی زمین اس قدر ارزاں تھی کہ دس بارہ روپے کو قابل سکونت مکان بنانے کیلئے زمین مل جاتی تھی ، بازار کا یہ حال تھا کہ دو تین روپے کا آٹا ایک وقت میں نہیں مل سکتا تھا۔کیونکہ لوگ زمیندار طبقہ کے تھے اور خود دانے پیس کر روٹی پکاتے تھے۔تعلیم کیلئے ایک مدرسہ سرکاری تھا جو پرائمری تک تھا اور اسی کا مدرس کچھ الاؤنس لیکر ڈاک خانے کا کام بھی کر دیا کرتا تھا۔ڈاک ہفتہ میں دو دفعہ آتی تھی۔تمام عمارتیں فصیل قصبہ کے اندر تھیں اور اس پیشگوئی کے پورا ہونے کے ظاہری کوئی سامان نہ تھے کیونکہ قادیان ریل سے گیارہ میل کے فاصلے پر واقع ہے اور اس کی سڑک بالکل کچی ہے اور جن ملکوں میں ریل ہو ان میں اس کے کناروں پر جو شہر واقع ہوں انہیں کی آبادی بڑھتی ہے۔کوئی کار خانہ قادیان میں نہ تھا کہ اس کی وجہ سے قادیان کی ترقی ہو نہ ضلع کا مقام تھا نہ تحصیل کا۔حتی کہ پولیس کی چوکی بھی نہ تھی۔قادیان میں کوئی منڈی بھی نہ تھی۔جس کی وجہ سے یہاں کی آبادی ترقی کرتی۔جس