سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 7
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ عورتوں کی تعلیم کی شرح مردوں کی نسبت بھی زیادہ رہی جو اس امر کی شہادت ہے کہ حضور نے اس اہم فریضہ کی ادائیگی کس عمدہ طریق سے فرمائی اور یہ بھی کہ احمدی بچے خدا تعالیٰ کے فضل سے تعلیم یافتہ ماؤں کی گود میں بہتر تعلیم و تربیت سے فیض یاب ہو کر ملک و قوم کے بہتر مستقبل کے ضامن بنیں۔ہمارے پیارے امام کو جماعت کی ہمہ جہتی ترقی کی دُھن لگی ہوئی تھی۔تعلیم کے میدان میں ترقی کا سرسری جائزہ پیش کیا جا چکا ہے۔زرعی ترقی حضور کا خاص میدان تھا۔حضور خود زمیندار خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔مطالعہ شوق اور محنت سے آپ نے اپنی اور جماعت کی زمینوں اور زراعت کو غیر معمولی ترقی دی اور حضور کی وہ جائیداد جو بمشکل اپنا خرچ پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی وسیع و عریض جائیداد بن گئی۔حضور نے زمینداروں کی مشکلات اور ان کے حل کے متعلق ایک نہایت پُر مغز مقالہ تحریر فرمایا جس میں زمینداروں کی مشکلات بیان کرنے کے بعد آپ نے فرمایا۔” میں سب سے آخر میں اس سبب کی طرف توجہ دلاتا ہوں جو سب سے زیادہ زمینداروں کی اخلاقی اور اقتصادی حالت کی تباہی کا موجب ہو رہا ہے۔جو یہ ہے کہ زمیندار اس قدر قرض کے نیچے دبے ہوئے ہیں کہ وہ پیداوار سے اس کا سود بھی پوری طرح ادا نہیں کر سکتے۔بیان کیا جاتا ہے کہ اس وقت زمینداروں پر ایک ارب تیئیس کروڑ روپیہ کا قرض ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ قریباً ڈیڑھ کروڑ ایکڑ زمین فروخت کر کے اس قرض کو ادا کیا جا سکتا ہے۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں پنجاب کی صحیح طور پر قابلِ کاشت زمین اس سے کم ہی ہو گی پس گو بظاہر زمیندار اپنی زمینوں کے مالک نظر آتے ہیں لیکن اگر انہیں اپنے قرض ادا کرنے پر مجبور کیا جائے تو وہ اپنی سب زمینیں فروخت کر کے بھی مقروض کے مقروض ہی رہیں گے۔" ان مشکلات کا حل تجویز کرنے کے بعد آپ فرماتے ہیں۔اگر اس قسم کی کوئی تجویز زمینداروں نے نہ کی تو ان کو یا درکھنا چاہئے کہ وہ اور ان کی اولادیں کبھی بھی غلامی سے آزاد نہیں ہو سکتیں۔" زمینداروں کی اقتصادی مشکلات اور ان کا حل صفحه ۲۱۴۲۰) | حضرت فضل عمر نے بعض ہو نہار نوجوانوں کو زرعی یونیورسٹی فیصل آباد (جو اس وقت تک