سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 91
91 مٹی میں پھنس گئی اور حالت یہ ہو گئی کہ نہ تو وہ ٹیوب مٹی کے اندر جاتی تھی اور نہ ہی بآسانی باہر آسکتی تھی۔چنانچہ مستری صاحبان نے صرف یہ دیکھنے کیلئے کہ ٹیوب کو کیا ہو گیا ہے ایک تیسرا گڑھا کھودنا شروع کر دیا تھا۔لیکن جس وقت حضور کے قدم اس زمین پر داخل ہوئے۔مستری فضل حق صاحب کا بیان ہے کہ یوں معلوم ہو تا تھا کہ جیسے نلکا کی نال کو کوئی قوت خود بخود پانی کے قریب لے جا رہی ہے۔چنانچہ حاضرین نے مستری صاحب کے یہ کلمات سے کہ حضور پانی آگیا۔تو بے اختیار الحمد للہ زبان پر جاری ہو گیا۔حضور اس کے بعد دیر تک مستری صاحب سے گفتگو فرماتے رہے اور ہر رنگ میں ان کی حوصلہ افزائی فرماتے رہے۔" (الفضل ۱۵ اکتوبر ۱۹۴۸ء) بہتر پانی کی تلاش کا کام برابر جاری رہا۔جامعہ نصرت والی جگہ پر بو رنگ کرنے سے جو پانی ملا اس کا نمونہ کیمیائی تجزیہ کیلئے فیصل آباد بھجوایا گیا۔متعلقہ حکام کی طرف سے یہ اطلاع موصول ہوئی کہ پانی زراعت اور گھریلو استعمال کیلئے موزوں نہیں ہے۔حضور کی خدمت میں بذریعہ تاریہ رپورٹ بھجوائی گئی اس پر حضور نے کسی مایوسی اور بد دلی کے اظہار کی بجائے اپنے دست مبارک سے تحریر فرمایا۔"Start boring near river in Rabwah land southern part۔" اور ساتھ ہی یہ تاکید فرمائی کہ :۔" آدمی یہ ہدایت لیکر جائے۔عبد اللطیف صاحب سمجھ کر جائیں اور وہاں یہ کام خود شروع کروا ئیں۔" ایک مسلسل پر مشقت کوشش کے بعد ربوہ کے پہلے جلسہ سالانہ اپریل ۱۹۴۹ء تک چند نلکے ہی لگائے جا سکے تھے جن کا پانی بھی بمشکل ہی قابل استعمال تھا۔جلسہ پر تو یہ نلکے نا کافی ہی تھے تاہم ٹینکروں کے ذریعہ پانی کی سپلائی کا انتظام ہو جانے کی وجہ سے اس مشکل پر بھی قابو پالیا گیا۔پانی کی فراہمی کے ان ہی مراحل میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اس سلسلہ میں ایک عظیم خوشخبری ملی جس کا ذکر کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں۔جلسہ کے اختتام کے بعد جس دن ہم ربوہ سے واپس چلے (یعنی ۲۱۔اپریل ۱۹۴۹ء بروز جمعرات) مجھے ایک الہام ہوا مجھ پر ایک غنودگی سی طاری ہو گئی۔اس نیم غنودگی کی حالت میں میں نے دیکھا کہ میں خدا تعالیٰ کو مخاطب کر کے یہ شعر پڑھ رہا