سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 92 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 92

ہوں۔۹۲ جاتے ہوئے حضور کی تقدیر نے جناب پاؤں کے نیچے سے میرے پانی بہا دیا " میں نے اسی حالت میں یہ سوچنا شروع کیا کہ اس الہام میں جاتے ہوئے " سے کیا مراد ہے۔اس پر میں نے سمجھا کہ مراد یہ ہے کہ اس وقت تو پانی دستیاب نہیں ہو سکا لیکن جس طرح حضرت اسماعیل علیہ السلام کے پاؤں رگڑنے سے زمزم پھوٹ پڑا تھا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کوئی ایسی صورت پیدا کر دے گا کہ جس سے ہمیں پانی بافراط میسر آنے لگے گا۔اگر پانی پہلے ہی مل جاتا تو لوگ کہہ دیتے کہ یہ وادی بے آب و گیاہ نہیں یہاں تو پانی موجود ہے۔پھر اس وادی کو بے آب و گیاہ کہنے کے کیا معنی؟ اب ایک وقت تو پانی کے بغیر گذر گیا اور باوجود کوشش کے ہمیں پانی نہ مل سکا۔آئندہ خدا تعالیٰ کوئی نہ کوئی صورت ایسی ضرور پیدا کر دے گا کہ جس سے ہمیں پانی مل جائے۔اس لئے فرمایا۔جاتے ہوئے حضور کی تقدیر نے جناب پاؤں کے نیچے سے میرے پانی بہا دیا پاؤں کے نیچے" سے مراد یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اسماعیل قرار دیا ہے جس طرح وہاں اسماعیل علیہ السلام کے پاؤں رگڑنے سے پانی بہہ نکلا تھا۔اسی طرح یہاں خدا تعالیٰ میری دعاؤں کی وجہ سے پانی بہارے گا۔یہ ایک محاورہ ہے جو محنت کرنے اور دعا کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ہم نے اپنا پورا زور لگا دیا تا ہمیں پانی مل سکے لیکن ہم اپنی کوششوں میں کامیاب نہ ہوئے۔اب خدا تعالیٰ نے میرے منہ سے یہ کہلوا دیا کہ پانی صرف تیری دعاؤں کی وجہ سے نکلے گا۔ہم نہیں جانتے کہ یہ پانی کب نکلے گا اور کس طرح نکلے گا۔لیکن بہر حال یہ الہامی شعر تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کوئی نہ کوئی صورت ایسی ضرور پیدا کر دے گا جس کی وجہ سے وہاں پانی کی کثرت ہو جائے گی۔انشاء اللہ تعالی۔اس شعر میں "حضور " اور " جناب " دو لفظ اکٹھے کئے گئے ہیں جو عام طور پر اکٹھے استعمال نہیں ہوتے۔لیکن چونکہ یہاں ادب کا پہلو مراد ہے اس لئے " آپ " کے لفظ کی بجائے یہاں حضور اور جناب کے لفظ استعمال ہوئے ہیں۔بہانے سے مطلب یہ ہے