سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 90 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 90

برداشت کرنے کی ضمانت دے تاکہ کوئی روک پیدا نہ ہو۔) تاریخ احمدیت جلد نمبر ۱۲ صفحه ۲۱ ۴ تا ۴۲۲) ربوہ میں آبادی کے سلسلہ میں پانی کی عدم دستیابی ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔اس سارے رقبہ میں احمد نگر کی طرف جاتے ہوئے آخری سرے پر سڑک کے کنارے ایک نلکا لگا ہوا تھا۔جس کا پانی معیاری تو نہیں تھا تا ہم کم کھاری ہونے کی وجہ سے بہت غنیمت تھا۔وہ نلکا بھی آبادی کی ساری ضروریات تو پوری نہ کر سکتا تھا۔اس سرزمین کو آباد کرنے کی پہلی کوششیں بھی پانی کی دقت کی وجہ سے ہی ناکام ہو چکی تھیں۔تاہم آباد کریں گے اب دیوانے یہ ویرانے مختلف مقامات پر بورنگ کی کوشش کی گئی مگر کامیابی کی صورت پیدا نہ ہوئی۔حضرت فضل عمر نے ربوہ میں پہلی نماز ادا فرمائی اور نماز کے بعد اسی جگہ تشریف فرما ہو کر ربوہ کی آبادی و ترقی کے سلسلہ میں گفتگو فرما رہے تھے کہ مکرم قریشی فضل حق صاحب پینے سے شرابور خاک آلود بکھرے ہوئے بالوں کے ساتھ ہاتھ میں ایک برتن میں گدلا سا پانی لئے ہوئے داخل ہوئے اور بہت ہی خوشی سے حضور پانی مل گیا، حضور پانی نکل آیا کہتے ہوئے خیمہ میں داخل ہوئے اور اپنی مسلسل کئی ہفتوں کی محنت شاقہ کا نتیجہ حضور کی خدمت میں پیش کر دیا۔یہ پانی کسی طرح بھی استعمال کے قابل نہیں تھا تا ہم اس سے کسی قدر ہمت ضرور بندھی اور حوصلہ افزائی ہوئی تھی۔(راقم الحروف اس موقع پر خود بھی اس خیمہ میں موجود تھا) مکرم عبد السلام صاحب اختر اس ایمان پرور واقعہ کے متعلق لکھتے ہیں۔" نماز کے بعد حضور مسجد میں ہی بیٹھ گئے اور مکرم قاضی عبدالرحیم صاحب بھٹی سے مکانات کی تعمیر کے بارہ میں گفتگو فرماتے رہے۔ابھی حضور قاضی صاحب سے گفتگو فرماہی رہے تھے کہ مستری فضل حق صاحب جو گذشتہ بارہ دنوں سے نلکہ لگانے پر مقرر تھے اور شب و روز مٹی کی کھدائی میں مصروف تھے بھاگے ہوئے آئے اور کہنے لگے کہ حضور کے یہاں تشریف لانے پر زمین سے پانی آگیا۔یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ ہمیں گذشتہ کئی روز سے پانی کی شدید تکلیف تھی۔ایک جگہ ۷۵ فٹ تک مٹی کی کھدائی کی گئی مگر پانی نہیں آیا تھا۔مستری صاحبان نے تنگ آکر دوسری جگہ کھدائی شروع کر دی تھی۔مگر اتفاق کی بات ہے کہ دوسری جگہ بھی تقریبا ۴۰ فٹ جا کر نلکہ کی ٹیوب بُری طرح