سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 466 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 466

سر ہے پر فکر نہیں ، دل ہے پر امید نہیں اب ہیں بس شہر کے باقی یہی ویرانے دو تمہیں تریاق مبارک ہو مجھے زہر کے گھونٹ دو غم ہی اچھا ہے مجھے تم مجھے غم کھانے پر بوجھ ہی ڈالو گے تو ہوگی اصلاح نفس رو اونٹ لاتے ہیں یونہی چیخنے چلانے اک طرف عقل کے شیطان ہے تو اک جانب نفس ایک دانا کو نہیں کھیرے ہوئے دیوانے دو محمد عربی کی ہو آل میں برکت ہو اس کے حسن میں برکت جمال میں برکت ملے گی سالک زه تجھ کو حال میں برکت کبھی بھی ہوگی میسر نہ قال میں برکت لگائیو نہ درخت شکوک دل میں کبھی نہ اس کے پھل میں ہے برکت نہ ڈال میں برکت گنہ کے بعد ہو تو بہ سے باب رحمت را خطا کے بعد ملے بعد ملے انفعال میں برکت ہے دست قبلہ نما لا اله الا الله ہے درد دل کی دوا لا اله الا الله قریب تھا کہ میں گر جاؤں بار عصیاں سے بنا ہے ایک عصا لا اله الا الله ہزاروں بلکہ ہیں لاکھوں علاج روحانی ہے روح شفا لا اله الا الله مگر