سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 467
ہو پھیلائیں گے صداقت اسلام کچھ بھی جائیں گے ہم جہاں بھی کہ جانا پڑے ہمیں محمود کر کے چھوڑیں گے ہم حق کو آشکار روئے زمین کو خواہ ہلانا پڑے ہمیں *۔ہماری خاک تک بھی اڑ چکی ہے اس کے رستہ میں ہلاکت تو بھلا کس بات سے ہم کو ڈراتی ہے غم دل لوگ کہتے ہیں نہایت تلخ ہوتا ہے مگر میں کیا کروں اس کو غذا یہ مجھ کو بھاتی ہے کہ وصل کا لطف تبھی ہے رہیں ہوش بجا دل بھی قبضہ میں رہے پہلو میں دلدار بھی ہو عشق کی راہ میں دیکھے گا وہی روئے فلاح جو کہ دیوانہ بھی ہو عاقل و ہشیار بھی ہو دل میں اک درد ہے پر کس سے کہوں میں جاکر کوئی دنیا میں مرا مونس و غم خوار بھی ہو غیر ممکن کو اے میرے ممکن میں بدل دیتی ہے فلسفیو زور دعا دیکھو تو عاشقو دیکھ چکے عشق مجازی کے کمال مرے یار سے بھی دل کو لگا دیکھو تو کیا ہوا تم سے جو ناراض ہے دنیا محمود کس قدر تم ہیں الطاف خدا دیکھو تو