سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 462 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 462

ہو جائیں جس سے ڈھیلی سب فلسفہ کی چولیں میرے حکیم ایسا برہان مجھ کو دے دے دنیا کا غم ادھر ہے ادھر آخرت کا خوف بوجھ میرے دل سے الہی اُتار دے یہ تو بارگاہ حسن ہے میں ہوں گدائے حسن مانگوں گا بار بار میں بار بار دے ثار دل چاہتا ہے جان ہو اسلام پر توفیق اس کی اے میرے پروردگار دے بگاڑے کوئی ان کیلئے جو دنیا وہ سات پشت کو اس کی سنوار دیتے ہیں جیتنے ہوں مائل تو عاشق صادق خوشی سے جان کی بازی بھی ہار دیتے ہیں وہ *۔خاموشی سی طاری ہے مجلس کی فضاؤں پر فانوس ہی اندھا ہے یا اندھے ہیں پروانے فرزانوں نے دنیا کے شہروں کو اُجاڑا ہے آباد کریں گے اب دیوانے یہ ویرانے ہے ساعت سعد آئی اسلام کی جنگوں کی آغاز تو میں کر دوں انجام خدا جانے آہ غریب کم نہیں غیض شہ جہاں سے کچھ جس سے ہوا جہاں تباہ دل کا مرے غبار تھا