سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 461 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 461

۴۶۱ میں واحد ہوں دلداده اور واحد میرا پیارا ہے گر تو بھی واحد بن جائے میری آنکھ کا تارا ہے۔*۔۔* مومن تو جانتا ہی نہیں بزدلی ہے کیا اس قوم میں فرار کا دستور ہی نہیں دل دے چکے تو ختم ہوا قصہ حساب معشوق سے حساب کا دستور ہی نہیں اے شعاع نور یوں ظاہر نہ کر میرے عیوب غیر ہیں چاروں طرف ان میں مجھے رسوا نہ کر ہے محبت ایک پاکیزہ امانت اے عزیز عشق کی عزت ہے واجب عشق سے کھیلا نہ کر ہے عمل میں کامیابی موت میں ہے زندگی جا لپٹ جا لہر سے دریا کی کچھ پرواہ نہ کر *۔محمود راز حسن کو ہم جانتے ہیں خوب صورت کسی کی نور کے سانچے میں ڈھل گئی نگاہیں جن پر پڑیں فرشتوں کی رشک سے اے میرے محسن ایسے انسان مجھ کو دے دے دجال کی بڑائی کو خاک میں ملا دوں قوت مجھے عطا کر سلطان مجھ کو دے دے