سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 449
۴۴۹ نے بھی تین دفعہ اللہ اکبر کہا تھا سو ہم نے بھی آپ کی نقل میں تین دفعہ تکبیر کے نعرے لگائے۔آپ نے فرمایا کیا تم کو معلوم ہے کہ میں نے تکبیر کیوں کسی تھی۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول الله ل ل ل ا للہ ! اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا۔جب میں نے پہلی دفعہ گدال ماری اور اس پتھر میں سے آگ کا شعلہ نکلا تو میں نے اس شعلہ میں یہ نظارہ دیکھا کہ اسلامی فوجوں کے سامنے روما کی حکومت کی فوجیں تہ و بالا کر دی گئیں اور میں نے اس موقعہ کے مناسب حال اللهُ أَكْبَرُ کیا۔پھر جب میں نے دوسری دفعه کدال ماری اور پتھر کی چٹان میں سے آگ کا شعلہ نکلا تو مجھے یہ نظارہ دکھایا گیا کہ اسلامی سطوت کے سامنے کرائے ایران کے قصر پر زلزلہ آگیا ہے۔اور اس کی شوکت توڑ دی گئی ہے۔تب میں نے اس کے مناسب حال تکبیر کا نعرہ بلند کیا۔اور جب میں نے تیسری دفعہ کدال پتھر پر ماری اور پھر اس میں سے ایک شعلہ نکلا تو مجھے یہ نظارہ دکھایا گیا کہ حمیر کی طاقت اور قوت اسلام کے مقابلہ میں برباد کر دی گئی۔تب پھر میں نے خدا کی بڑائی بیان کی اور تکبیر کا نعرہ لگایا۔صحابہ نے کہا۔یا رسول اللہ ! پھر جس بات پر آپ نے تکبیر کی ہم نے بھی تکبیر کی۔اس مثال سے یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ یہ اسلامی آداب ہیں کہ جب کوئی خدا کا جلال ظاہر ہو تو مومن اس پر بلند آواز سے اللهُ اَكْبَرُ کہتا ہے۔سو ہم عید کی نماز میں جو بہت سی تکبیریں کہتے ہیں بلکہ ایام تشریق میں برابر تکبیر بلند کرتے رہتے ہیں تو گویا ابراہیم کی قربانی کیلئے اپنے جذبات استحسان کا ہدیہ پیش کرتے ہیں اور اپنے منہ سے اقرار کرتے ہیں کہ ہم نے ابراہیم علیہ السلام کی قربانی میں خدا کی شوکت اور اس کے جلال کو دیکھا۔مگر کیا یہ ہمارے لئے افسوس کی بات نہیں کہ ہم ابراہیم علیہ السلام میں تو خدا کو دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ہم اپنے نفس میں خدا کو دیکھنا نہیں چاہتے۔ہم ابراہیم کے ایک مستحسن فعل پر تو اللہ اکبر کہتے ہیں مگر ہمارے دل میں یہ تڑپ پیدا نہیں ہوتی کہ ہم سے بھی کچھ ایسے افعال ظاہر ہوں کہ جنہیں دیکھ کر خدا کے بندے بے تاب ہو کر تکبیریں بلند کریں اور زمین اور آسمان اسی طرح ہمارے افعال کی وجہ سے خدا کی بڑائی سے گونج جائیں جس طرح قانون قدرت کے ذریعہ سے وہ تسبیح کے ساتھ گونج رہے ہیں اور یہ کوئی ناممکن بات نہیں ہے کیونکہ ابراہیم کوئی خدا کا سگا بیٹا نہ تھا اور ہم کوئی سوتیلے بیٹے