سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 450
۴۵۰ نہیں ہیں۔کمی خدا کی طرف سے نہیں ہے بلکہ کمی ہماری طرف سے ہے۔دنیا میں عاشق ہاتھ پھیلائے بیٹھے رہتے ہیں اور معشوق منہ پھلائے بیٹھے رہتے ہیں مگر روحانی دنیا نرالی ہے۔ہمارا معشوق ہاتھ پھلائے بیٹھا ہے اور ہم میں سے کچھ بد قسمت ہیں جو منہ پھیرے بیٹھے ہیں۔اگر سوئے ادبی نہ ہوتی اور انسانی الفاظ خدا تعالیٰ کیلئے استعمال کرنے جائز ہوتے تو میں کہتا۔اے نادان انسان دیکھ تو سہی تیرا معشوق تیرا خدا کب سے تیری طرف ہاتھ پھیلائے بیٹھا ہے۔اتنی دیر سے کہ اتنی دیر میں انسان کی تو رگوں کا خون بھی خشک ہو جاتا ہے مگر وہ تمثیلوں سے بالا ہے۔وہ نقصوں سے پاک ہے وہ عیبوں سے مبرا ہے۔وہ تمہار امنتظر ہے مگر تمہارا انتظار اس کی بادشاہت میں کمی نہیں پیدا کرتا۔وہ تمہاری طرف بڑھتا ہے مگر تمہاری بے رغبتی اس کی شان میں کمی نہیں کر سکتی کیونکہ وہ سب نقائص سے پاک ہے اور تمام کمزوریوں سے بالا ہے۔انسانی زبان اس کی صفات کی حقیقت کو بیان کرنے سے قاصر ہے اور انسانی الفاظ اس کی محبت کی کیفیت کو ادا ہی نہیں کر سکتے وہ عاشقوں کے عشق سے زیادہ جوش والی وہ ماں باپ کے جذبات سے زیادہ نازک وہ دوستوں کی دوستی سے زیادہ گرم ہے لیکن پھر بھی وہ اس کی اذیت کا موجب نہیں ہوتی اور اس کی شان کی کمی کا باعث نہیں ہوتی۔وہ راغب ہو کر بھی بالا ہے اور انسان مستغنی ہو کر بھی بیٹا ہے وہ متوجہ ہو کر بھی بڑا ہے اور یہ منہ پھیر کر بھی چھوٹا ہے کیونکہ اس کی توجہ احتیاج کی توجہ نہیں ہے بلکہ رحم کی توجہ ہے اور اس کی تڑپ کمزوری کی تڑپ نہیں ہے بلکہ علم کی تڑپ ہے اور حلم کی تڑپ ہے مگر انسان ان باتوں کو نہیں دیکھتا۔وہ قدم آگے اٹھانے کی کوشش نہیں کرتا۔وہ اس بات کا عادی ہو گیا ہے کہ تھیٹروں میں جائے اور جھوٹے بادشاہوں کی شان و شوکت کو دیکھے اور بد بخت یہ نہیں سمجھتا کہ اس کے گھر میں اس وقت ایک خلعت شاہانہ اور ایک تاج اس کے پیدا کرنے والے کی طرف سے آیا ہوا ہے اور ایک بادشاہت کا پروانہ اس کیلئے لکھا ہوا موجود ہے۔وہ دوسروں کے ایکٹ دیکھنے پر فدا ہوتا ہے مگر اپنی بادشاہت سے منہ موڑ لیتا ہے۔بد قسمت ہے ایسا انسان کاش اس کی ماں اسے پیدا نہ کرتی کہ وہ اپنے وجود میں انسانیت کیلئے عار ہے بلکہ حیوانات کیلئے بھی باعث ننگ ہے کہ وہ بے عقل ہو کر خدا کی تسبیح کو بلند کرتے لیکن یہ عظمند ہو کر بھی اس سے غافل رہتا ہے۔اسے آنکھیں دی گئیں